بھارتی فوجی اسٹیبلشمنٹ سمجھداری سے سیز فائر پر عمل کر رہی ہے،سیاسی رہنماؤں کو پریشانی ہے:اسحاق ڈار

0

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ملٹری ٹو ملٹری جنگ بندی پر مؤثر عمل درآمد ہو رہا ہے لیکن بھارتی سیاسی رہنماؤں کو امن ہضم نہیں ہو رہا ہے۔

ملائیشیا کے دارالحکومت کوالا لمپور میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا بھارت نے خود سیز فائر کی درخواست کی مگر اس کی سیاسی قیادت کو سیز فائر ہضم نہیں ہورہی۔

 پہلگام واقعے کے 4 روز بعد وزیراعظم نے بھارت کو تحقیقات کی پیش کش کی، لیکن اب تک جواب نہیں آیا۔ بھارت اب دنیا میں تنہائی کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلگام حملے پر بھارت کی جانب سے پاکستان کا نام نہیں لیا گیا،لیکن سارے اقدامات پاکستان مخالف تھے، بھارت نے ہمارے خلاف جو اقدامات کیے، ہم نے بھی وہی اقدامات بھارت کیخلاف کیے، بھارت نے پہلے ہمارے سفارتکار کم اور انہیں ناپسندیدہ قرار دے کر واپس بھیجا تو ہم نے بھی جیسے کا تیسا جواب تھا۔

انہوں نے کہاکہ بھارت نے پاکستانیوں کے ویزے منسوخ کیے تو ہم نے بھی سکھ یاتریوں کے علاوہ بھارتیوں کے ویزے منسوخ کردیے، بھارت نے کسی بین الاقوامی ضابطے کے بغیر سندھ طاس معاہدہ معطل کیا، جس کے جواب میں ہم نے بھارت کے لیے فضائی حدود بند کی۔

نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ میں بھارت کو بھرپورجواب دینے کا فیصلہ ہوا، فضائیہ کے بہادرپائلٹس نے بھارت کے 6 طیارے مار گرائے جن میں سے 4 رافیل طیارے تھے، بھارت نے جان بوجھ کر اپنے 2 میزائل سکھ آبادی میں گرائے تاہم بھارتی بیانیے کو عالمی سطح پر پذیرائی نہیں ملی۔

نہوں نے کہا کہ ہم باور کرادیا کہ بھارت پاکستان کا پانی روک سکتا ہے اور نہ رخ موڑا جا سکتا ہے، کسی کو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے نہیں دیں گے۔

 بھارت نے خود سیز فائر کی درخواست کی تھی مگر بھارت کی سیاسی قیادت کو سیزفائر ہضم نہیں ہورہی۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے اس بار دنیا بھرمیں بھارتی بیانیہ ناکام بنایا، 22 اپریل سے 6 مئی کے دوران 29 ممالک کے دارالحکومتوں سے بات کی اور انہیں باور کرایا کہ بھارت غلط بیانی کررہا ہے، پاکستان میں بھارت کا کوئی ہاتھ نہیں، دہشت گردی کے سب سے بڑے متاثر ہم ہیں، ہمارے 80 ہزار لوگ شہید ہوچکے ہیں، 150 ارب ڈالر کے معاشی نقصانات ہوچکے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.