اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہینِ مذہب سے متعلق الزامات کی تحقیقات کے لیے مجوزہ کمیشن کی تشکیل پر عمل درآمد عارضی طور پر روک دیا ہے۔
جسٹس خادم حسین اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے یہ حکم جاری کرتے ہوئے جسٹس سردار اعجاز اسحاق کے اس فیصلے کو معطل کر دیا، جس کے تحت کمیشن کی تشکیل کا اعلان کیا گیا تھا۔
یہ حکم راؤ عبدالرحیم ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کے دوران جاری کیا گیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ کمیشن کی تشکیل قانونی تقاضوں کے خلاف ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک کمیشن کی تشکیل پر عمل درآمد کو معطل کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ پاکستان میں توہینِ مذہب سے متعلق حساس نوعیت کے معاملات پر جاری بحث کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔
