وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے مودی کی پاکستان مخالف پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ امن بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن مودی کے ساتھ نہیں۔۔
اسلام آباد میں انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے زیر اہتمام جنوبی ایشیا میں قیام امن پر اعلیٰ سطح کے پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد کیا۔۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے بھارت سے دوبارہ پاکستان مخالف پالیسی پر غور کرنے کا مطالبہ کیا۔۔ انہوں نے کہا پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے لیکن اس کو پاکستان کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔۔ مودی کی پالیسی پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔۔
انہوں نے جنوبی ایشیا میں امن پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔۔ علاقائی ہم آہنگی اور مکالمے کے فروغ کی اشد ضرورت ہے۔۔ پاکستان ہمیشہ پرامن بقائے باہمی کا حامی رہا ہے۔۔ جنوبی ایشیا کو نفرت کی نہیں، ترقی اور تعاون کی ضرورت ہے
وفاقی وزیر نے کہا خطے میں امن کے لیے میڈیا کا مثبت کردار اہم ہے۔۔ مکالمے اور سفارتی روابط سے ہی تنازعات کا حل ممکن ہے۔۔ جنوبی ایشیا کو ترقی کی راہ پر لانے کے لیے امن بنیادی شرط ہے۔۔ تمام ممالک کو اعتماد سازی کے اقدامات پر توجہ دینی ہو گی۔۔ ۔۔ پاکستان جنوبی ایشیاء میں امن کے لئے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے
انہوں نے کہا بھارت میں ہندوتوا نظریہ امن کے لئے بڑا خطرہ ہے۔۔ جنوبی ایشیاء میں طاقت کے توازن کو ایک مختلف نظریئے سے دیکھنا ہوگا۔۔ پاکستان ہر طرح کی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔۔ بھارت نے جنوبی ایشیاء کا امن سبوتاژ کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔۔ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کو بیرونی پشت پناہی حاصل ہے۔۔ بھارت پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔۔
وفاقی وزیر عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ پہلگام واقعہ کا ہم پر بے بنیاد الزام عائد کیا گیا۔۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار ملک ہے ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔۔۔۔ ہم نے دنیا سے کہا کہ پہلگام واقعہ پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں۔۔ہم نے سفارتی سطح پر دنیا کے سامنے اپنا بیانیہ پیش کیا۔۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا خطے میں پائیدار امن کے لیے سنجیدہ اور مسلسل مکالمے کی ضرورت ہے۔۔امن کی بنیاد انصاف، احترام اور برابری پر ہونی چاہیے۔۔۔۔ جنوبی ایشیا کو کشیدگی نہیں، تعاون، تجارت اور ترقی کی ضرورت ہے۔۔
جوہر سلیم نے افتتاحی کلمات میں کہا قیامِ امن کے لیے خطے میں سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے۔۔ انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز خطے میں مثبت پالیسی مباحثے کا اہم پلیٹ فارم ہے۔۔ جنوبی ایشیا کے مسائل کا حل مکالمے، فہم و فراست اور تعاون میں پوشیدہ ہے۔۔ پالیسی مکالمے سے ہی ہم دیرپا حل تلاش کر سکتے ہیں۔۔ آج کا اجتماع خطے میں ایک نئے فکری عمل کا آغاز ہو سکتا ہے۔۔۔ علمی، عسکری اور سفارتی برادری کی مشترکہ بصیرت سے راستہ نکالا جا سکتا۔۔
سینیٹر مشاہد حسین نے کہا جنوبی ایشیا کو تنازعات نہیں، تعاون کا خطہ بنانا ہوگا۔۔ قیامِ امن کے لیے سیاسی و سفارتی قیادت کو جرأت مندانہ فیصلے کرنا ہوں گے۔۔۔۔ خطے میں چین کا کردار مثبت اور ترقیاتی ہے۔۔ سی پیک علاقائی انضمام کا بہترین ماڈل ہے۔۔ ہمیں دشمنی کی نہیں، شراکت داری کی سوچ اپنانا ہوگی۔۔ میڈیا کو قیام امن کے لیے پُل کا کردار ادا کرنا چاہیے، رکاوٹ نہیں۔۔ خطے میں امن کے بغیر ترقی کا خواب ادھورا رہے گا۔۔ پاکستان کو علاقائی سفارتکاری میں فعال کردار ادا کرنا
سابق کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے جنوبی ایشیا میں امن قائم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے جارحیت کی، بھرپور جواب دیا گیا۔۔ پاکستان کی مسلح افواج ہر چیلنج سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔۔ موجودہ جنگ میں پاکستان نے سفارتی اور عسکری دونوں محاذوں پر بھارت کو پیچھے دھکیل دیا۔۔ دشمن کو بھرپور جواب دیا، اب خطے میں امن کی بحالی ضروری ہے۔۔ جنگیں مسائل کا حل نہیں۔۔ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں
انہوں نے کہا بھارت کو یہ جان لینا چاہیے کہ نئی نسل کی فوج پہلے سے زیادہ مستعد اور تربیت یافتہ ہے۔۔ پاکستان کی ایئر ڈیفنس اور سائبر وارفیئر نے بھارت کی کوششوں کو ناکام بنایا۔۔ پاکستان اور بھارت کو جنگ کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔۔ حالیہ پاک بھارت کشیدگی نے خطے کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔۔ امن صرف افواج سے نہیں، قیادت اور عوامی سطح پر بھی اقدامات ضروری ہیں۔۔ ایٹمی طاقتیں جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتیں
انہوں نے کہا مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔۔جنوبی ایشیا کا مستقبل امن و ترقی سے وابستہ ہے۔۔ ہمیں ماضی کی تلخیوں سے آگے بڑھنا ہوگا۔۔ ہ دشمنی نہیں، خطے میں خوشحالی کی ضرورت ہے ۔۔پاکستان بھارت کو خطے کے امن کیلئے عملی اقدامات کرنے چاہیئں