یورپی یونین کے 209 سینئر سفارتکاروں کا غزہ بحران پر فوری اقدامات کا مطالبہ

برسلز — یورپی یونین کے 209 سابق سفارتکاروں، سفیروں اور اعلیٰ حکام نے ایک کھلے خط کے ذریعے یورپی یونین (EU) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی اور مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کی سرگرمیوں کے جواب میں فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔

خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر یورپی قیادت نے بروقت اور ٹھوس قدم نہ اٹھایا تو یونین کی عالمی سطح پر ساکھ بری طرح متاثر ہوگی۔ دستخط کنندگان نے زور دیا کہ اگر پورا بلاک اجتماعی طور پر کارروائی نہیں کر سکتا تو انفرادی رکن ممالک کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے لیے آزادانہ اقدامات کرنے چاہئیں۔

خط میں نو اقدامات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے جن میں شامل ہیں:

  • اسرائیل کو اسلحہ کی برآمد پر لائسنس معطل کرنا،
  • غیر قانونی بستیوں سے منسلک اشیا اور خدمات کی تجارت پر پابندی،
  • یورپی ڈیٹا سینٹرز کو غزہ یا مغربی کنارے سے وابستہ اسرائیلی سرکاری یا تجارتی ڈیٹا ہینڈل کرنے سے روکنا۔

فلسطینی علاقوں کے لیے یورپی یونین کے سابق نمائندے سوین کوہن وان برگسڈورف نے اس مہم کو منظم کیا۔ ان کے مطابق "اگر 27 رکن ممالک اجتماعی طور پر عمل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو ہم مفلوج نہیں رہ سکتے — یہ ہماری بنیادی اقدار سے غداری ہوگی۔”

209 دستخط کنندگان میں شامل ہیں:

  • 110 سابق سفیر،
  • 25 سابق ڈائریکٹر جنرلز،
  • ایلین لی رائے (یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس کے سابق سیکرٹری جنرل)،
  • کارلو ٹروجن (یورپی کمیشن کے سابق سیکرٹری جنرل)۔

یہ اپیل جولائی کے وسط میں شروع ہوئی اور یہ یورپی سفارتکاروں کی تیسری بڑی عوامی درخواست ہے۔ تاہم، یہ پہلا موقع ہے کہ سفارتکاروں نے اجتماعی فیصلے کی ناکامی کی صورت میں قومی سطح پر آزادانہ اقدامات کرنے پر زور دیا ہے۔

یاد رہے کہ جولائی کے آخر میں اسرائیل کو یورپی یونین کے ہورائزن ریسرچ فنڈ سے معطل کرنے کی تجویز مسترد کر دی گئی تھی، جس سے یورپی یونین کے اندرونی حلقوں میں مزید بے چینی پیدا ہوئی۔

وان برگسڈورف نے خبردار کیا کہ یورپی حکومتیں اگر مؤثر اقدام نہ اٹھائیں تو وہ عالمی اور ملکی سطح پر عوامی اعتماد کھو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق، جرمنی جیسے ملک میں، جو اسرائیل کے قریبی اتحادیوں میں شمار ہوتا ہے،

  • 80 فیصد عوام غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں کو ناپسند کرتے ہیں،
  • جب کہ دو تہائی شہری حکومت سے سخت اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سفارتکاروں کے مطابق یورپی یونین کی خاموشی نہ صرف انسانی حقوق کے محافظ کے طور پر اس کی حیثیت کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ یہ اپنے ہی شہریوں کو مایوس اور تنہا کرنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے