لاہور — پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) پنجاب نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کے مادھوپور ہیڈورکس کے ٹوٹنے کے باعث آئندہ چند روز میں پاکستان میں مزید 70 ہزار کیوسک پانی داخل ہونے کا خطرہ ہے۔ اس اضافی پانی سے پنجاب کے کئی اضلاع میں صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔
موجودہ صورتحال
- ہیڈ گنڈا سنگھ: پانی کا بہاؤ اس وقت 3 لاکھ 3 ہزار کیوسک ہے، فوج اور ضلعی انتظامیہ نے رات کو 20 دیہات خالی کرائے۔
- ہیڈ سلیمانکی: ایک لاکھ سے زائد کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے۔
- ہیڈ اسلام: آئندہ 24 گھنٹے میں خطرات لاحق۔
- ہیڈ مرالہ: پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 75 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
- ہیڈ تریمو: کل صبح جھنگ کے مقام پر 9 لاکھ کیوسک ریلا گزرنے کا امکان۔
- ہیڈ محمد والا (ملتان): 7 لاکھ کیوسک کا ریلا پہنچے گا، شگاف ڈالنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔
متاثرہ اضلاع اور نقل مکانی
- اب تک 4 لاکھ 81 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
- 511 ریلیف کیمپس، 351 میڈیکل کیمپس اور 321 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے۔
- 4 لاکھ 5 ہزار جانور محفوظ مقامات پر منتقل، 30 شہری جاں بحق جبکہ لاہور میں بجلی گرنے سے 2 اموات رپورٹ ہوئیں۔
- پنجاب کے 2 ہزار 308 موضع جات زیرِ آب، ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ، مزید 3 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور۔
شدید متاثرہ علاقے
- قصور: دریائے ستلج میں 1955ء کے بعد سب سے زیادہ پانی، شہر کو بچانے کا چیلنج۔
- جھنگ: شہر کو بچانے کیلئے بند توڑنا پڑا۔
- سیالکوٹ، نارووال، وزیرآباد، حافظ آباد، چنیوٹ، شیخوپورہ، پاکپتن، راجن پور، بہاولپور اور چشتیاں کے کئی دیہات شدید متاثر۔
- ملتان: آج شام تک بڑا سیلابی ریلا داخل ہونے کا امکان، 3 لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کر رہے ہیں۔
