حماس نے اسرائیلی حملے میں غزہ کمانڈر محمد سنوار کی شہادت کی تصدیق کردی

غزہ سٹی: فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس نے اپنے غزہ کے سینئر فوجی کمانڈر محمد سنوار کی شہادت کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے رواں برس مئی میں ایک ٹارگٹڈ حملے میں ان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا، تاہم حماس نے اب تک خاموشی اختیار کی ہوئی تھی۔

حماس کے جاری کردہ بیان میں سنوار کی تصاویر گروپ کی دیگر اعلیٰ شخصیات کے ساتھ شائع کی گئیں اور انہیں "شہداء” کا درجہ دیا گیا۔ تاہم بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ کس مقام پر اور کن حالات میں مارے گئے۔

محمد سنوار، حماس کے سابق سیاسی و فوجی رہنما یحییٰ سنوار کے چھوٹے بھائی تھے۔ یحییٰ کو 7 اکتوبر 2023 کے اسرائیل پر حملے کا ماسٹر مائنڈ تصور کیا جاتا تھا، جس کے نتیجے میں موجودہ تنازع شدت اختیار کر گیا۔ یحییٰ سنوار دسمبر 2024 میں ایک جھڑپ کے دوران ہلاک ہوگئے تھے، جس کے بعد محمد سنوار نے غزہ میں حماس کی قیادت سنبھالی۔

اسرائیل نے انہیں اپنے "انتہائی قیمتی اہداف” میں شمار کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ وہ سرحد پار حملوں کی منصوبہ بندی اور غزہ میں مسلح مزاحمت کے ڈھانچے کو منظم کرنے میں براہِ راست ملوث تھے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق محمد سنوار کی شہادت کے بڑے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، جن میں شامل ہیں:

  • غزہ میں حماس کی قیادت کے ڈھانچے کی مزید کمزوری
  • جانشینی اور حکمتِ عملی کے حوالے سے اندرونی چیلنجز
  • طویل المدتی فوجی کارروائیوں کو مربوط کرنے کی صلاحیت پر اثرات

اسرائیلی حکام نے فی الحال اس تصدیق پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حماس کے کمانڈ سٹرکچر کے لیے ایک اہم دھچکا ہے۔

اس کے باوجود حماس نے واضح کیا ہے کہ اپنے سینئر رہنماؤں کے نقصان کے باوجود اسرائیل کے خلاف مزاحمت جاری رہے گی، اور اس کی جدوجہد قیادت کی ہلاکت سے متاثر نہیں ہوگی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے