غزہ — حماس کے ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت رہا کیے جانے والے فلسطینی قیدیوں کی فہرست میں 100 نام خفیہ طور پر تبدیل کر دیے ہیں۔
عبرانی نیوز ویب سائٹ Ynet کے مطابق، حماس کے ایک سینئر ذریعے نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی حکام نے قیدیوں کی فہرست میں تبدیلیاں "ایک نفیس اور چالاک طریقے سے” کی ہیں۔ تاہم، اس ذریعے نے یہ نہیں بتایا کہ کن قیدیوں کو فہرست سے نکالا گیا یا کن کے نام شامل کیے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جنگ بندی کے مجوزہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر اثر انداز ہو سکتا ہے، جس پر خطے میں ثالثی کرنے والے ممالک، خصوصاً قطر، مصر اور امریکا، گزشتہ کئی ہفتوں سے کوششیں کر رہے ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب نے بعض فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو "سیکیورٹی خطرہ” قرار دیتے ہوئے ان کے نام فہرست سے نکالنے پر اصرار کیا تھا۔
واضح رہے کہ چند روز قبل حماس کے رہنما موسیٰ ابو مرزوق نے قطر میں الجزیرہ ٹی وی سے گفتگو میں بتایا تھا کہ گروپ ان فلسطینی رہنماؤں کی رہائی پر زور دے رہا ہے جنہیں اسرائیل نے امریکی ثالثی معاہدے کے باوجود رہا کرنے سے انکار کیا ہے۔ ان میں مروان برغوتی، احمد سعادت، عبداللہ برغوتی، حسن سلامہ، ابراہیم حمید اور عباس السید جیسے نمایاں نام شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فریقین کے درمیان قیدیوں کی فہرست پر اختلاف برقرار رہا تو غزہ میں جنگ بندی کے امکانات مزید کمزور پڑ سکتے ہیں۔
