بیجنگ – چین نے روس سے تیل کی درآمدات کے حوالے سے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیجنگ اور ماسکو کے درمیان تجارتی تعاون مکمل طور پر “جائز” اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے جمعرات کے روز بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ “چین دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ معمول کی، جائز اور شفاف اقتصادی، تجارتی اور توانائی سے متعلق تعاون برقرار رکھے ہوئے ہے، جس میں روس بھی شامل ہے۔”
ترجمان نے امریکی الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے یکطرفہ اقدامات “بالادستی اور معاشی جبر” کی واضح مثال ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر چین کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو “بیجنگ ٹھوس جوابی اقدامات کرے گا اور اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کا بھرپور دفاع کرے گا۔”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز دعویٰ کیا تھا کہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے انہیں یقین دلایا ہے کہ بھارت روس سے تیل کی خریداری بند کر دے گا، اور انہوں نے کہا کہ وہ چین کو بھی ایسا کرنے پر مجبور کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے چین اور بھارت دونوں پر الزام عائد کیا کہ وہ روس سے تیل خرید کر یوکرین میں جاری جنگ کے لیے بالواسطہ مالی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے یورپی اتحادیوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ روس سے تیل کی درآمدات فوراً روک دیں۔
دوسری جانب، بھارت کی حکومت نے اس بارے میں کسی پالیسی تبدیلی کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، چین اور روس کے درمیان توانائی کا تعاون پابندیوں کے باوجود مسلسل بڑھ رہا ہے۔
چین اس وقت روسی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے، جو عالمی توانائی منڈیوں میں مغربی ممالک کی پالیسیوں کے اثرات کو کم کر رہا ہے۔
دوسری جانب، امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے روس پر اقتصادی دباؤ کے باوجود ایشیائی ممالک کے ساتھ ماسکو کے تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔
