پیرو میں بڑھتے جرائم کے خلاف 30 روزہ ہنگامی حالت کا اعلان، فوج اور پولیس تعینات

0

لیما — پیرو کے صدر جوز جیری نے دارالحکومت لیما اور اس کے نواحی صوبے کالاؤ میں بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پانے کے لیے 30 دن کی ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ حالیہ مظاہروں کے دوران ایک شخص کی ہلاکت اور 100 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کے بعد کیا گیا ہے، جنہوں نے ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد اور سکیورٹی کی بگڑتی صورتحال کو اجاگر کیا۔

صدر جیری نے منگل کی شب قوم سے ٹیلی ویژن خطاب میں کہا “ہم اب دفاع سے آگے بڑھ کر جرائم کے خلاف ایک بھرپور جنگ شروع کر رہے ہیں — تاکہ شہریوں کو دوبارہ امن، اطمینان اور اعتماد فراہم کیا جا سکے۔”

ہنگامی حالت کے تحت حکومت کو پولیس کے ساتھ مسلح افواج کو تعینات کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ یہ اقدام وزراء کی کونسل کی منظوری کے بعد آدھی رات سے نافذ العمل ہوگا۔

صدر جوز جیری نے اکتوبر کے اوائل میں سابق صدر ڈینا بولوارٹے کی معزولی کے بعد منصب سنبھالا تھا۔ انہوں نے حلف اٹھانے کے بعد نئی کابینہ تشکیل دی اور اعلان کیا کہ جرائم پر قابو پانا حکومت کی اولین ترجیح ہوگی۔

گزشتہ ہفتے، انہیں اپنے پہلے بڑے عوامی احتجاج کا سامنا کرنا پڑا، جو سول سوسائٹی تنظیموں اور نوجوانوں کے گروہوں (جنریشن زی) کی جانب سے منظم کیا گیا تھا۔ مظاہرین نے حکومت سے مؤثر سکیورٹی اصلاحات اور پولیس کارروائیوں میں شفافیت کا مطالبہ کیا۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ پیرو نے سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر ہنگامی حالت نافذ کی ہو۔
سابق صدر ڈینا بولوارٹے نے بھی مارچ 2025 میں اسی نوعیت کا 30 روزہ اقدام کیا تھا، مگر ماہرین کے مطابق بار بار ہنگامی اعلانات کے باوجود جرائم میں خاطر خواہ کمی نہیں آ سکی۔

سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ وقتی اقدامات کے بجائے حکومت کو پولیس اصلاحات، روزگار کے مواقع، اور نوجوانوں کی بحالی کے لیے پائیدار پالیسیاں اپنانا ہوں گی تاکہ جرائم کی جڑوں کو ختم کیا جا سکے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.