سعودی عرب کے نئے مفتی اعظم کا اعلان — شیخ ڈاکٹر صالح بن فوزان کو اعلیٰ مذہبی منصب سونپ دیا گیا
ریاض — سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سفارش پر معروف اسلامی اسکالر شیخ ڈاکٹر صالح بن فوزان بن عبداللہ الفوزان کو مفتی اعظم سعودی عرب مقرر کر دیا۔
عرب میڈیا کے مطابق، خادم الحرمین الشریفین کی منظوری کے بعد شاہی فرمان جاری کیا گیا ہے،
جس کے تحت شیخ ڈاکٹر صالح بن فوزان کو نہ صرف مفتی اعظم بلکہ
سعودی عرب کی سینئر علما کونسل کے چیئرمین
اور جنرل پریزیڈنسی برائے سائنٹیفک ریسرچ و افتا کا سربراہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔
یہ تقرری سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل الشیخ کے انتقال کے بعد عمل میں لائی گئی۔
شیخ عبدالعزیز آل الشیخ 23 ستمبر 2025 کو وفات پا گئے تھے۔
وہ 1999 سے سعودی عرب کے مفتی اعظم کے عہدے پر فائز رہے اور
اپنے دور میں اسلامی فقہ، شریعت کی تشریح، قانونی و معاشرتی معاملات پر اہم فتوے جاری کرتے رہے۔
شیخ ڈاکٹر صالح بن فوزان سعودی عرب کے ممتاز علما میں شمار ہوتے ہیں۔
انہوں نے اسلامی فقہ، عقائد اور فتاویٰ کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔
وہ ماضی میں بھی سعودی علما کونسل اور متعدد علمی و دینی اداروں سے وابستہ رہ چکے ہیں۔
ان کی تعیناتی کو مذہبی رہنمائی کے تسلسل اور فکری اعتدال کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق، شیخ صالح بن فوزان کی تقرری سعودی عرب میں
مذہبی اداروں کی پالیسیوں میں تسلسل اور اعتدال پسندی کے فروغ کا اشارہ ہے۔
یہ اقدام ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں
سعودی عرب کے اصلاحاتی و فکری ایجنڈے کو مزید مضبوط بنائے گا۔