پاکستان کا اقوام متحدہ سے شام پر پابندیاں نرم کرنے کا مطالبہ

0

اقوام متحدہ — پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی کرے تاکہ 14 سالہ خانہ جنگی کے بعد ملک میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی کی راہ ہموار کی جا سکے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے 15 رکنی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "شام پر پابندیوں میں نرمی اقتصادی بحالی، تعمیرِ نو اور سماجی انضمام کے لیے نہایت ضروری ہے”۔

انہوں نے زور دیا کہ شامی حکومت میں مؤثر اصلاحات اور شفاف طرزِ حکمرانی سے ہی ان اہداف کے حصول میں مدد مل سکتی ہے۔

عثمان جدون نے شام کی پیپلز اسمبلی کے حالیہ انتخابات کو ملک میں سیاسی عمل کے فروغ اور ریاستی اداروں کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ علاقے جہاں سکیورٹی وجوہات کے باعث انتخابات مؤخر ہوئے، وہاں بھی جلد انتخابی عمل مکمل ہو گا تاکہ جامع اور قومی سطح پر سیاسی شمولیت یقینی بنائی جا سکے۔

پاکستانی مندوب نے شامی ڈیموکریٹک فورسز (SDF) اور مرکزی حکومت کے درمیان طے پانے والے حالیہ معاہدے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا، جس کے تحت ایس ڈی ایف کے جنگجوؤں کو قومی فوج میں شامل کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ "یہ معاہدہ قومی اتحاد، استحکام اور ریاستی اداروں کی مضبوطی کے لیے مثبت پیش رفت ہے، اور ہم اس کے مکمل اور بروقت نفاذ کے منتظر ہیں۔”

انہوں نے غیر ملکی دہشت گرد جنگجوؤں کی موجودگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سیاسی و سلامتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق ڈی ڈی آر (Disarmament, Demobilization & Reintegration) اصلاحات کے تحت ہتھیار ڈالنے، جنگجوؤں کو غیر مسلح کرنے اور معاشرے میں دوبارہ شمولیت جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔

عثمان جدون نے کہا کہ شامی حکومت کا دائرۂ اختیار سویدا، حلب اور دیرالزور سمیت تمام علاقوں میں قائم کیا جانا چاہیے تاکہ امن و امان بحال ہو سکے۔

انہوں نے اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے شام کے عوام سے پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم شام کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے احترام کے اصول پر قائم ہیں، اور شامی قیادت میں ہونے والے سیاسی عمل کی مکمل حمایت جاری رکھیں گے۔”

انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ مشترکہ قومی کوششوں اور عالمی تعاون کے ذریعے شام ایک مضبوط، پُرامن اور خوشحال ملک کے طور پر ابھرے گا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.