واشنگٹن / کاراکاس — امریکا نے وینزویلا کے ساحل کے قریب اپنی سب سے بڑی فوجی قوت تعینات کر دی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منشیات فروشوں کے خلاف جاری مہم نے کیریبین خطے کو ایک نئے جنگی مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔ اگست سے اب تک امریکا نے ہزاروں فوجی، جنگی جہاز اور لڑاکا طیارے اس علاقے میں بھیج دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پورٹوریکو کے فوجی اڈے دوبارہ فعال کر دیے گئے ہیں، جہاں بڑے پیمانے پر جنگی مشقیں جاری ہیں۔ ستمبر سے اب تک امریکی فوج نے وینزویلا کے ساحل کے قریب 10 کارروائیاں کی ہیں جن میں 43 افراد ہلاک اور متعدد لاپتا ہوئے۔
امریکی فوجی حکام کے مطابق، یہ کارروائیاں منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کی گئیں، تاہم وینزویلا نے ان حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، امریکی جنوبی کمانڈ جو فلوریڈا کے شہر ڈورال میں واقع ہے، تمام آپریشنز کی براہِ راست نگرانی کر رہی ہے۔ خطے میں امریکا کا بڑا ایئرکرافٹ کیریئر "یو ایس ایس جیرالڈ”، پانچ جنگی تباہ کن جہاز اور ایک جوہری آبدوز تعینات کی گئی ہے۔
امریکی فضائیہ نے بھی اپنی طاقت میں اضافہ کرتے ہوئے B-52 اور B-1 اسٹریٹیجک بمبار طیارے، جبکہ 10 ایف-35 اسٹیلتھ فائٹر جیٹ مشن پر تعینات کیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، 10 ہزار امریکی فوجی پورٹوریکو میں تعینات کیے جا چکے ہیں جبکہ خفیہ ایجنسیوں اور اسپیشل فورسز کو بھی متحرک کر دیا گیا ہے جو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے نگرانی اور خصوصی مشنز انجام دے رہی ہیں۔
دوسری جانب، وینزویلا نے بھی اپنے فوجی دستوں کو الرٹ کر دیا ہے اور 17 ستمبر سے وسیع پیمانے پر مشقیں جاری ہیں۔ صدر نکولس مادورو نے عوامی ملیشیا کو بھی متحرک کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی سرگرمیوں کا بڑھنا، جنوبی امریکا میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے اور ممکنہ عسکری تصادم کے خدشات کو جنم دے رہا ہے۔
