کوالالمپور — 47ویں ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشین (آسیان) سربراہی اجلاس کے دوران تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے رہنماؤں نے ایک توسیع شدہ جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے، جن کے دستخطوں کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ موجود تھے۔
معاہدے کا اعلان اس پانچ روزہ سرحدی جھڑپ کے بعد آیا ہے جس میں درجنوں ہلاک ہوئے اور سیکڑوں ہزار افراد عارضی طور پر بے گھر ہوئے تھے؛ تازہ معاہدے میں دونوں جانب سے “سرحدی علاقوں سے بھاری ہتھیار ہٹانے” اور 18 قیدی فوجیوں کی رہائی جیسی شقیں شامل کی گئی ہیں۔ کمبوڈیا کے وزیرِ اعظم ہن مانیٹ نے کہا کہ اگر یہ معاہدہ پوری طرح نافذ ہوا تو یہ دیرپا امن کی تعمیر کے لیے ایک اہم بنیاد بنے گا اور سرحدی برادریوں کے درمیان تعلقات بحال کرنے میں مدد دے گا۔
رپورٹس کے مطابق اس جھڑپ میں کم از کم 48 افراد ہلاک ہوئے اور تقریباً 300,000 افراد متاثر/بے گھر ہوئے — ان انسانی نقصانات کے پیشِ نظر خطّی اور عالمی دباؤ کے تحت یہ معاہدہ طے پایا۔
صدر ٹرمپ نے ملائیشیا آمد کے بعد کہا کہ امریکہ علاقائی امن کے فروغ میں فعال رہے گا اور دونوں ملکوں کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات جاری رہیں گے بشرطیکہ امن قائم رہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن خطے کے ساتھ تجارتی معاہدے بھی آگے بڑھائے گا۔ اسی اجلاس کے دوران چین اور امریکہ کے مذاکرات کار بھی سائیڈ لائن پر اہم تجارتی مذاکرات کر رہے تھے۔
اس معاہدے کی ایک علامتی شق کے تحت دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ وہ “سرحدی علاقوں سے بھاری ہتھیار ہٹا دیں گے” اور تھائی لینڈ نے 18 کمبوڈین فوجیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا۔ اجلاس میں شریک دیگر رہنماؤں نے بھی امن قائم کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور آسیان کی ایک مبصر ٹیم کی نگرانی کے امکانات زیرِ غور آئے۔ The Guardian+1
یہ معاہدہ جولائی میں شروع ہونے والی جھڑپوں کے depois میں آتا ہے، جب دونوں اطراف کے درمیان تیز رو راکٹ اور توپ خانے کا تبادلہ ریکارڈ کیا گیا — خطے میں انسانی بحران اور نقل مکانی کی بدولت بین الاقوامی سطح پر مسئلے کو فوری حل کرنے کی مانگ بڑھی۔ آسیان سربراہی اجلاس میں ایستادگی اور علاقائی رابطے پر خلیجی ممالک، چین، اور امریکہ کے نمائندے بھی توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔
