استنبول — ترکیہ کے شہر استنبول میں جاری پاک–افغان مذاکرات کے دوسرے روز پاکستان نے افغان طالبان وفد کو اپنا حتمی مؤقف پیش کر دیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق، پاکستانی وفد نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ افغان طالبان کی جانب سے دہشت گرد عناصر کی سرپرستی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عملی، ٹھوس اور قابلِ پیمائش اقدامات ضروری ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد نے طالبان کو باور کرایا کہ ان کے دلائل غیر منطقی اور زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ پاکستانی نمائندوں کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طالبان کسی اور ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، جو افغانستان، پاکستان اور پورے خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں نہیں۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں مزید پیشرفت کا دارومدار طالبان کے مثبت اور تعاون پر مبنی رویے پر ہوگا۔
