ارجنٹائن کے وسط مدتی انتخابات: صدر میلی کی پالیسیوں اور امریکی حمایت کا امتحان

ارجنٹائن کے وسط مدتی انتخابات: صدر میلی کی پالیسیوں اور امریکی حمایت کا امتحان

بیونس آئرس – ارجنٹائن میں وسط مدتی قانون ساز انتخابات اتوار کے روز منعقد ہوئے جنہیں صدر خاویر میلی کی معاشی پالیسیوں اور ان کی امریکی حمایت یافتہ آزاد منڈی اصلاحات کے لیے عوامی ریفرنڈم قرار دیا جا رہا ہے۔

دریائے ریچویلو کے شمالی کنارے پر واقع لگژری کار شورومز میں گاہکی بڑھ گئی ہے، جہاں تاجر اور سرمایہ کار صدر میلی کے درآمدی پابندیاں ختم کرنے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ بیونس آئرس کے مالیاتی ضلع پورٹو مادیرو میں بینکار اور کاروباری طبقہ ڈالر کی آن لائن فروخت پر عائد پابندی کے خاتمے کو معاشی آزادی کی علامت سمجھ رہا ہے۔

تاہم، شہر کے غریب مضافاتی علاقے ایک مختلف تصویر پیش کر رہے ہیں۔ ویرونیکا لیگیزامون نامی 34 سالہ خاتون اپنی چار بیٹیوں کے لیے سوپ کچن سے کھانا لانے پر مجبور ہیں۔ وہ کہتی ہیں “پہلے ہم خود کھانے کا انتخاب کرتے تھے، اب ہمیں دوسروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے کہ ہم کھا سکیں گے یا نہیں۔”

صدر میلی کی حکومت نے عوامی سبسڈی میں کمی اور اشیائے خوردونوش پر قیمتوں کے کنٹرول کے خاتمے جیسے سخت اقدامات کیے ہیں، جس سے مہنگائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان پالیسیوں کے باعث ملک کے امیر اور غریب طبقات کے درمیان معاشی خلیج مزید گہری ہو گئی ہے۔

وسط مدتی انتخابات میں عوام کی رائے سے یہ طے ہوگا کہ آیا ارجنٹائنی صدر کی “معاشی آزادی” کی پالیسیوں کو عوامی تائید حاصل ہے یا نہیں۔

دوسری جانب، واشنگٹن میں ٹرمپ انتظامیہ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکا، ارجنٹائن کے ساتھ مالیاتی تعاون کے ایک ممکنہ ریسکیو پیکیج پر غور کر رہا ہے تاکہ ملکی معیشت کو استحکام دیا جا سکے۔

بیونس آئرس میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر صدر میلی کو قانون ساز اداروں میں اکثریت حاصل نہیں ہوتی تو ان کی اصلاحاتی ایجنڈا کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جبکہ سرمایہ کار اس نتیجے کو جنوبی امریکا میں امریکی اثر و رسوخ کے استحکام کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے