گیانگجو — جنوبی کوریا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ملک کے سب سے بڑے قومی اعزاز "گرینڈ آرڈر آف موگنگھوا” سے نوازا اور انہیں سونے کا تاریخی تاج بھی تحفے میں دیا۔ یہ اعزاز ٹرمپ کو جزیرہ نما کوریا میں امن کے قیام میں کردار کے اعتراف میں دیا گیا۔
ٹرمپ ایشیا کے دورے کے آخری مرحلے میں جنوبی کوریا پہنچے جہاں وہ ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (APEC) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ گیانگجو میں ہونے والی ملاقات کے دوران جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے ٹرمپ کو ایوارڈ پیش کیا۔
صدارتی دفتر کے مطابق، “صدر ٹرمپ کو کوریا میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں ملک کے سب سے بڑے اعزاز سے نوازا گیا ہے۔”
ٹرمپ نے اعزاز وصول کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا “میں یہ اعزاز فوری طور پر پہننا چاہوں گا۔”
سرکاری اہلکاروں کے مطابق، ٹرمپ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے امریکی صدر ہیں۔
تقریب کے دوران ٹرمپ کو "چیونماچونگ” تاج کی نقل بھی تحفے میں دی گئی، جو کہ تاریخی سیلا بادشاہت کے دور کا قیمتی ورثہ سمجھا جاتا ہے۔
صدر لی جے میونگ نے کہا کہ یہ تاج "کوریا میں امن کی علامت ہے” اور امریکہ و جنوبی کوریا کے درمیان نئے دور کے آغاز کی نمائندگی کرتا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے تجارتی تعلقات پر بھی گفتگو کی، خاص طور پر امریکی محصولات میں کمی اور شمالی کوریا کے ساتھ سفارتی رابطوں پر۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔
بعد ازاں، ٹرمپ نے دیگر ایشیائی ممالک کے سربراہان — ویتنام، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، کینیڈا، تھائی لینڈ اور سنگاپور — کے ساتھ عشائیے میں شرکت کی۔
رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ کی آمد کے باعث کئی غیر ملکی وفود کو اپنے شیڈول میں تبدیلیاں کرنا پڑیں۔ گیانگجو میں سفارت کاروں نے رہائش اور اجلاسوں کے انتظامات میں مشکلات کی شکایت کی، تاہم جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ نے کمروں کی قلت کی خبروں کی تردید کی ہے۔
