غزہ — فلسطینی تنظیم حماس نے غزہ میں اسرائیلی افواج کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے ثالث ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر فوری دباؤ ڈالیں تاکہ حملے روکے جائیں اور معاہدے کی پاسداری یقینی بنائی جائے۔
حماس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے حملے اس کی نیت کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ امریکا نیتن یاہو حکومت کو سیاسی پناہ فراہم کر کے جارحیت کو فروغ دے رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا نہ صرف اسرائیلی مظالم میں شریک ہے بلکہ غزہ میں بچوں اور خواتین کے قتل عام میں براہِ راست شریکِ جرم ہے۔
حماس نے ثالث ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں اور اسرائیل کو قتلِ عام بند کرنے اور جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری پر مجبور کریں۔
دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے سماجی پلیٹ فارم ایکس (X) پر بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کی قیادت کی ہدایت پر جنگ بندی معاہدے پر دوبارہ عمل درآمد شروع کردیا گیا ہے۔
فوج کے مطابق، غزہ پٹی میں کارروائیوں کے دوران مزاحمتی تنظیموں کے کمانڈ مراکز پر حملے کیے گئے جن میں 30 سے زائد مزاحمت کار مارے گئے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ جنگ بندی پر عمل درآمد جاری رکھے گی، تاہم کسی بھی خلاف ورزی پر سخت جواب دیا جائے گا۔
گزشتہ روز اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوئے، جس کے بعد علاقے میں انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا ہے۔
