بھارت نے افغان طالبان کو دریائے کنڑ پر ڈیم بنانے میں مدد کی پیشکش کردی

بھارت نے افغان طالبان کو دریائے کنڑ پر ڈیم بنانے میں مدد کی پیشکش کردی

نئی دہلی — بھارت نے افغانستان کی طالبان حکومت کو چترال سے نکلنے والے دریائے کنڑ پر ڈیم کی تعمیر میں تکنیکی اور مالی مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے حال ہی میں وزارتِ توانائی کو ہدایت دی تھی کہ دریائے کنڑ پر ڈیم کی تعمیر فوری طور پر شروع کی جائے۔

افغان میڈیا کے مطابق ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے وزارتِ توانائی کو ہدایت دی تھی کہ ڈیم کی تعمیر کے لیے ملکی کمپنیوں سے معاہدے کیے جائیں اور غیر ملکی کمپنیوں کا انتظار نہ کیا جائے۔ تاہم بھارت کی پیشکش کے بعد یہ امکان بڑھ گیا ہے کہ کابل حکومت اس منصوبے میں بین الاقوامی شراکت داری کو شامل کرے گی۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے نئی دہلی میں پریس بریفنگ کے دوران کہا “بھارت افغانستان کے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں میں تعاون کے لیے تیار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان پانی سے متعلق معاملات میں تعاون کی ایک تاریخ موجود ہے — ہرات میں سلما ڈیم اس کی نمایاں مثال ہے۔”

ترجمان کے مطابق بھارت چاہتا ہے کہ افغانستان توانائی کے خود کفیل نظام کی جانب بڑھے اور خطے میں اقتصادی تعاون اور استحکام کو فروغ دیا جائے۔

قطر میں طالبان کے سفیر سہیل شاہین نے بھارتی اخبار دی ہندو سے گفتگو میں کہا “افغانستان اور بھارت کے درمیان تعاون کے بے شمار مواقع موجود ہیں، اگر بھارت خلوص نیت سے مدد کرے تو یہ افغان عوام کے لیے مفید ثابت ہوگا۔”

دریائے کنڑ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال سے نکلتا ہے اور تقریباً 482 کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد دریائے کابل میں شامل ہوتا ہے، جو بعد میں دوبارہ پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اگر اس دریا پر ڈیم تعمیر کیا گیا تو پاکستان کے آبی مفادات پر اس کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور بھارت کے درمیان 10 سالہ دفاعی معاہدے پر بھی دستخط ہوئے ہیں، جس سے خطے میں نئی سفارتی حرکیات پیدا ہو رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی یہ پیشکش نہ صرف افغانستان کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش ہے بلکہ پاکستان کے اثرورسوخ کو کم کرنے کی ایک سفارتی حکمتِ عملی بھی ہو سکتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے