نئی دہلی:بھارت میں جاری "ووٹَر ادھیکار یاترا” نے ایک دہائی سے زائد اقتدار میں رہنے والی مودی سرکار کے جمہوری دعووں کو کھوکھلا ثابت کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی اس مہم کا مقصد انتخابی فہرستوں میں بے ضابطگیوں کو بے نقاب کرنا اور عوام میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔
بھارتی میڈیا ادارے اے این آئی کے مطابق، "ووٹَر ادھیکار یاترا” اب اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے، جہاں اپوزیشن کے سرکردہ رہنما راہول گاندھی، تیجسوی یادیو اور مکیش سہنی نے بہار میں یاترا میں شرکت کی اور حکومت پر شدید تنقید کی۔
راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو "ووٹ چور” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیراعظم بے گناہ ہیں تو وہ خاموش کیوں ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ووٹ چور ہے، اور وہ جانتا ہے کہ ہم نے اسے بے نقاب کر دیا ہے۔
راہول گاندھی نے انتخابی فہرستوں میں کی جانے والی بے ضابطگیوں کی مثال دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بہار کے ایک گاؤں میں 947 ووٹرز کو ایک ہی گھر کا رہائشی دکھایا گیا ہے، جو انتخابی نظام کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ مودی سرکار الیکشن کمیشن کی خصوصی نظرثانی مہم (SIR) کے ذریعے لاکھوں ووٹرز کو دانستہ طور پر ووٹنگ فہرست سے خارج کر رہی ہے، تاکہ انتخابی نتائج کو اپنے حق میں موڑا جا سکے۔ ان کے مطابق یہ سب کچھ مودی کی براہِ راست نگرانی میں ہو رہا ہے، اور اس کی خاموشی اس عمل کا واضح ثبوت ہے۔
رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بہار میں انتخابات سے قبل ہی ووٹ چوری کے ذریعے عوام کا جمہوری حق چھینا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ طرزِ عمل جاری رہا تو بھارت میں جمہوریت صرف نام کی رہ جائے گی، جبکہ درحقیقت آمریت کا تسلط ہوگا۔”ووٹَر ادھیکار یاترا” کے ذریعے اپوزیشن ملک بھر میں عوام کو بیدار کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ وہ اپنے بنیادی آئینی حق یعنی شفاف ووٹ کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں۔
ووٹر ادھیکار یاترا نے مودی سرکار کی ووٹ چوری کو بے نقاب کر دیا
