واشنگٹن — امریکی وفاقی عدالت کے جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابات سے متعلق جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر کے ایک اہم حصے کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دے دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، جج کا کہنا تھا کہ امریکی شہریوں سے ووٹ ڈالنے سے قبل شہریت کے ثبوت طلب کرنا آئینی اختیارات سے تجاوز ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ امریکی آئین کے تحت ہر ریاست کو آزادانہ طور پر انتخابات کرانے کا اختیار حاصل ہے، لہٰذا وفاقی حکومت اس عمل میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
صدر ٹرمپ نے 25 مارچ کو اپنے ایک ایگزیکٹو آرڈر میں ہدایت کی تھی کہ ووٹنگ سے قبل شہریوں کو اپنی شہریت کا ثبوت فراہم کرنا لازمی ہوگا۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ اس اقدام کا مقصد امریکی انتخابی نظام میں شفافیت اور سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔
تاہم، مختلف سیاسی جماعتوں، شہری تنظیموں اور حقوق کی انجمنوں نے اس فیصلے کو آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے عدالت میں چیلنج کر دیا تھا۔
متعدد عدالتیں پہلے ہی اس ایگزیکٹو آرڈر کے نفاذ کو عارضی طور پر روک چکی تھیں۔
وفاقی عدالت کا تازہ فیصلہ ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی، لیگ آف یونائیٹڈ لاطینی امریکن سٹیزنز، اور لیگ آف ویمن ووٹرز ایجوکیشن فنڈ سمیت مختلف گروپس کی درخواستوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
یہ فیصلہ امریکی سیاست میں ایک بڑا موڑ سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ وفاقی اختیارات اور ریاستی خودمختاری کے درمیان توازن سے متعلق ایک بنیادی آئینی نکتے کو واضح کرتا ہے۔
