لندن: (ویب ڈیسک) برطانوی شاہی محل نے تصدیق کی ہے کہ سابق شہزادہ اینڈریو — جو اب اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کے نام سے جانے جائیں گے — سے تمام شاہی القابات اور اعزازات باضابطہ طور پر واپس لے لیے گئے ہیں، جبکہ ان کے لیے مالی تصفیہ اور سالانہ وظیفہ طے کرنے پر کام جاری ہے۔
گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، بادشاہ چارلس کی ہدایت پر اینڈریو کو شاہی حیثیت ختم ہونے کے بعد ایک ابتدائی چھ اعداد پر مشتمل رقم (six-figure sum) ادا کی جائے گی، تاکہ وہ ونڈسر کے رائل لاج سے نکل کر نورفولک کے سینڈرنگھم میں نجی رہائش اختیار کر سکیں۔
ذرائع کے مطابق، یہ ادائیگی بادشاہ کی ذاتی فنڈز سے کی جائے گی، جس کے بعد اینڈریو کو سالانہ وظیفہ بھی دیا جائے گا جو ان کی بحریہ پنشن (£20,000 سالانہ) سے کئی گنا زیادہ ہوگا۔
عدالت اور عوامی دباؤ کے بعد، بکنگھم پیلس نے جمعرات کو بیان جاری کیا کہ “بادشاہ نے پرنس اینڈریو کے تمام القابات، اعزازات اور شاہی حقوق ختم کرنے کا باقاعدہ عمل شروع کر دیا ہے۔”
محل کے ترجمان کے مطابق، رائل لاج پر لیز کی واپسی کے لیے بھی نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔
اس فیصلے سے قبل برطانوی حکومت اور شاہی محل کے مابین مشاورت ہوئی، جبکہ وزیراعظم کیر اسٹارمر نے بادشاہ کے اقدام کی حمایت کی۔
انہوں نے کہا “ہمارے دل جیفری ایپسٹین کے متاثرین، بالخصوص ورجینیا گیفری کے خاندان کے ساتھ ہیں۔”
ورجینیا گیفری کے بھائی، اسکائی رابرٹس نے کہا کہ یہ فیصلہ اس بات کا “غیر رسمی اعتراف” ہے کہ “ڈیوک آف یارک اور میری بہن کے درمیان کچھ ہوا تھا۔”
برطانوی وزیر تجارت سر کرس برائنٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ “اگر امریکی سینیٹ یا تفتیشی کمیٹی کی جانب سے اینڈریو سے تعاون کی درخواست کی جاتی ہے، تو انہیں بطور عام شہری اس پر عمل کرنا چاہیے۔”
دوسری جانب سکاٹ لینڈ یارڈ اس بات پر غور کر رہا ہے کہ آیا جیفری ایپسٹین کیس میں اینڈریو کے کردار پر نئی فوجداری تفتیش شروع کی جائے۔
اب اینڈریو کو نہ صرف “پرنس” اور “ایچ آر ایچ” کا لقب چھوڑنا ہوگا بلکہ انہیں کرسمس کے بعد رائل لاج سے بھی منتقل ہونا پڑے گا۔ وہ اس سال سینڈرنگھم میں شاہی خاندان کے روایتی اجتماع میں شریک نہیں ہوں گے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ولی عہد پرنس ولیم اور ان کی اہلیہ پرنسز کیتھرین نے قریبی رہائش گاہ “فاریسٹ لاج” میں منتقل ہونے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے شاہی PR حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی متوقع ہے۔
