ٹرمپ کا ہنگری کیلئے روس مخالف پابندیوں سے استثنیٰ پر جواب دینے سے گریز

ٹرمپ کا ہنگری کیلئے روس مخالف پابندیوں سے استثنیٰ پر جواب دینے سے گریز

واشنگٹن / پام بیچ — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ان کی انتظامیہ ہنگری کو روس پر عائد نئی امریکی پابندیوں سے استثنیٰ دینے پر غور کر رہی ہے یا نہیں۔

فلوریڈا روانگی سے قبل واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے استثنیٰ کا مطالبہ کیا ہے، لیکن اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا: “اس نے استثنیٰ مانگا ہے، ہم نے استثنیٰ نہیں دیا، لیکن وہ دے چکے ہیں۔ وکٹر میرا دوست ہے۔”

ٹرمپ نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا جب ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے اعلان کیا ہے کہ وہ 7 نومبر کو واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات کے دوران امریکی صدر کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ ہنگری کو توانائی کے شعبے میں روس مخالف پابندیوں سے چھوٹ کی ضرورت ہے۔

اوربان کے مطابق، نئی امریکی پابندیاں روس کی تیل و گیس کمپنیوں کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں پر مبنی ہنگری کے مفادات کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہنگری کی توانائی کی زیادہ تر فراہمی روسی کمپنیوں سے حاصل ہوتی ہے، اس لیے پابندیوں میں نرمی ضروری ہے۔

یاد رہے کہ 22 اکتوبر کو امریکی محکمہ خزانہ نے روس کی بڑی تیل کمپنیوں روزنیفٹ، لوکوئیل اور ان کی 34 ذیلی کمپنیوں کو پابندیوں کی نئی فہرست میں شامل کیا ہے، جو 21 نومبر سے مکمل طور پر نافذالعمل ہوں گی۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد یوکرین جنگ کے تناظر میں ماسکو پر دباؤ ڈالنا ہے۔ تاہم، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ نئی امریکی پابندیاں روس کی معیشت پر کوئی نمایاں اثر نہیں ڈالیں گی بلکہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچائیں گی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے