فرانسیسی عدالت نے ہولوکاسٹ میموریل کی بے حرمتی کرنے پر 4 بلغاریائی شہریوں کو قید کی سزاسنا دی

فرانسیسی عدالت کا فیصلہ: ہولوکاسٹ میموریل کی بے حرمتی پر 4 بلغاریائی شہریوں کو قید

پیرس — فرانس کی ایک عدالت نے ہولوکاسٹ یادگار کی توڑ پھوڑ کے جرم میں چار بلغاریائی باشندوں کو دو سے چار سال قید کی سزا سنادی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی روس سے منسلک بیرونی مداخلت کے ایک منصوبے کا حصہ ہوسکتی ہے، جس کا مقصد فرانسیسی معاشرے میں تقسیم پیدا کرنا تھا۔

پیرس کی فوجداری عدالت نے جارجی فلیپوف اور کریل ملوشیف کو دو سال قید، جبکہ نیکولے ایوانوف اور میرچو اینجلوف کو بالترتیب چار اور تین سال قید کی سزا دی۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق، اینجلوف کو اس کارروائی کا "ماسٹر مائنڈ” قرار دیا گیا ہے اور وہ اب بھی مفرور ہے۔

عدالت نے چاروں مجرموں پر تاحیات فرانس میں داخلے پر پابندی بھی عائد کر دی۔

ججوں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ توڑ پھوڑ اکتوبر 2023 کے بعد بڑھتی ہوئی سام دشمنی (Anti-Semitism) کے ماحول میں کی گئی، اور اس کا مقصد “رائے عامہ کو بھڑکانا، معاشرتی تقسیم کو گہرا کرنا اور فرانسیسی معاشرے کو مزید کمزور کرنا” تھا۔

یہ واقعہ 14 مئی 2024 کو پیش آیا جب پیرس کے “شوہ میموریل” (Holocaust Memorial) کے باہر موجود "دیوارِ راستی” (Mur des Justes) پر سرخ ہاتھوں کے نشانات پینٹ کیے گئے۔ یہ دیوار اُن 3,900 افراد کے ناموں پر مشتمل ہے جنہوں نے نازی قبضے کے دوران یہودیوں کی جانیں بچائیں۔

پیرس کے پراسیکیوٹر کے مطابق، یہ واقعہ ان نو کارروائیوں میں شامل ہے جن کے پیچھے روسی انٹیلی جنس ایجنسیاں ہوسکتی ہیں۔
دیگر واقعات میں یہودی نشان (ستارۂ داؤد) کی دیواروں پر پینٹنگ، ایفل ٹاور کے نیچے تابوتوں کی نمائش، اور مساجد کے باہر خنزیر کے سر رکھنا شامل ہیں۔

فرانسیسی سائبر نگرانی اتھارٹی Viginum کے مطابق، اس واقعے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر “روس سے منسلک اکاؤنٹس” نے بڑے پیمانے پر پھیلایا تاکہ معاشرتی تناؤ کو مزید بڑھایا جا سکے۔

ایک سیکورٹی گارڈ نے دو افراد کو میموریل پر سٹینسل لگاتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا، جس کے بعد ویڈیو فوٹیج کی مدد سے باقی ملزمان کی شناخت کی گئی۔ بعد ازاں پتہ چلا کہ وہ بیلجیم اور پھر بلغاریہ فرار ہوگئے تھے۔

ملزمان نے دعویٰ کیا کہ وہ صرف “پینٹنگ کر رہے تھے” اور انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ کس جگہ گرافٹی بنا رہے ہیں۔
تاہم، استغاثہ نے عدالت میں پیش کیا کہ ایک ملزم کے جسم پر سواستیکا ٹیٹو ہے اور وہ ماضی میں نازی سلامی دیتے ہوئے تصاویر بھی پوسٹ کر چکا ہے۔

یورپی یونین اور فرانسیسی یہودی تنظیموں نے عدالت کے فیصلے کو “انصاف کی دیر سے لیکن اہم فتح” قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق، یہ فیصلہ فرانس اور یورپ بھر میں بڑھتی ہوئی سام دشمنی اور بیرونی مداخلت کے خلاف ایک واضح پیغام ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے