تل ابیب — اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں کسی بھی خطرے کو طاقت کے ذریعے کچل دیا جائے گا۔
نیتن یاہو نے واضح کیا کہ اسرائیل کے حماس کے خلاف فوجی آپریشنز جاری رہیں گے اور "غزہ میں امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک دہشت گرد عناصر مکمل طور پر ختم نہ کر دیے جائیں۔”
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج یلو لائن سے پیچھے ہٹ چکی ہے لیکن “کسی بھی نئے خطرے کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔”
اسرائیلی وزیرِ دفاع نے بھی خبردار کیا کہ یلو لائن عبور کرنے والے فلسطینیوں کو نشانہ بنایا جائے گا، جس سے علاقے میں مزید کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، 11 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 236 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
غزہ کی وادی میں شدید غذائی قلت برقرار ہے، اور اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ہزاروں زندگیاں خطرے میں ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق، اسرائیل نے غزہ امن معاہدے پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا۔
معاہدے کے تحت غزہ میں روزانہ 600 امدادی ٹرکوں کی اجازت دی جانی تھی، لیکن فی الحال صرف 145 ٹرکوں کو داخل ہونے دیا جا رہا ہے۔
یو این کا کہنا ہے کہ امدادی سامان کی محدود ترسیل کی وجہ سے اسپتالوں اور پناہ گزین کیمپوں میں انسانی بحران شدید تر ہو رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں میں مزید 5 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملے غزہ سٹی اور خان یونس کے اطراف کیے گئے جہاں کئی رہائشی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔
