واشنگٹن — سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب ابراہیم معاہدے (Abraham Accords) میں شامل ہونے والا ہے اور جلد اس حوالے سے حل نکال لیا جائے گا۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ دو ریاستی حل سے زیادہ اسرائیل اور ان پر منحصر ہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان 18 نومبر کو واشنگٹن کا سرکاری دورہ کریں گے، جہاں ان کی ملاقات ڈونلڈ ٹرمپ سے متوقع ہے۔ ملاقات کے دوران اہم معاہدوں اور خطے کی صورتحال پر بات چیت ہوگی۔
واشنگٹن (دنیا نیوز) — سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیا دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب جلد ابراہیم معاہدے (Abraham Accords) میں شامل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے امریکا اہم کردار ادا کرے گا اور "ہم اس مسئلے کا حل نکال لیں گے”۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں یقین نہیں کہ اسرائیل اور فلسطین کا مسئلہ دو ریاستی حل کے ذریعے طے پائے گا یا نہیں۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ اسرائیل اور ان کی ذاتی کاوشوں پر منحصر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے دورِ صدارت میں مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک ابراہیم معاہدے کا حصہ بنے اور اب سعودی عرب بھی جلد اس معاہدے میں شامل ہونے کی راہ پر گامزن ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان 18 نومبر کو واشنگٹن کا سرکاری دورہ کریں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ دورے کے دوران ولی عہد کی ملاقات ڈونلڈ ٹرمپ سے متوقع ہے، جس میں دفاعی، اقتصادی اور سرمایہ کاری سے متعلق اہم معاہدوں پر بات چیت کی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر سعودی عرب ابراہیم معاہدے میں شامل ہوتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی صورتحال میں ایک بڑی تبدیلی متوقع ہوگی۔
