اسرائیلی حملوں کے باوجود یرغمالیوں کی لاشیں واپس کر رہے ہیں: حماس
غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہے، اس کے باوجود حماس یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیلی حکام کے حوالے کر رہی ہے۔
حماس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ “اسرائیل نے آج بھی ریڈ کراس کے ذریعے یرغمالیوں کی لاشیں وصول کیں، ہم انسانی بنیادوں پر لاشیں واپس کر رہے ہیں، لیکن اسرائیل جنگ بندی معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے۔”
ترجمان نے مزید کہا کہ “امریکا کو چاہیے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ سیز فائر معاہدے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔”
فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کے تازہ فضائی حملوں کے نتیجے میں مرکزی غزہ میں دو فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
غزہ کے مختلف ہسپتالوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تین فلسطینیوں کی لاشیں لائی گئیں جبکہ اسرائیل نے 15 مزید لاشیں واپس بھیج دی ہیں۔
اس طرح اسرائیل کی جانب سے واپس کی جانے والی لاشوں کی مجموعی تعداد 285 ہو گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، اب تک 68 ہزار فلسطینی شہید جبکہ 1 لاکھ 70 ہزار 679 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
بین الاقوامی تنظیموں نے ایک بار پھر غزہ تک فوری انسانی رسائی اور امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ، ریڈ کراس اور دیگر انسانی حقوق کے اداروں نے کہا ہے کہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں انسانی المیہ کو مزید بڑھا رہی ہیں۔
عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی اور امدادی رسائی کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔