بھارت: بہار میں انتخابات کا پہلا مرحلہ آج، مودی سرکار کی پاکستان مخالف مہم تنقید کی زد میں

0

نئی دہلی /  بھارتی ریاست بہار میں ریاستی انتخابات کے پہلے مرحلے کا آغاز آج سے ہو گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 121 نشستوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے جبکہ دیگر حلقوں میں پولنگ منگل کے روز منعقد ہوگی۔

بھارتی خبر ایجنسیوں کے مطابق، 6 ملین (60 لاکھ) سے زائد ووٹرز کے نام پولنگ سے قبل فہرستوں سے غائب کر دیے گئے۔
بہار کے 8 کروڑ ووٹرز کی اکثریت بی جے پی کی انتہا پسند پالیسیوں کے خلاف تصور کی جاتی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق، اسی وجہ سے مودی سرکار دباؤ کا شکار ہے اور ووٹروں کے جذبات بھڑکانے کے لیے پاکستان مخالف بیانات دے رہی ہے۔

انتخابی مہم کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں پاکستان اور فوجی کارروائیوں کو سیاسی مہم کا حصہ بنا دیا۔
انہوں نے “آپریشن سندور” کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس کو نشانہ بنایا اور کہا “جب پاکستان میں دھماکے ہو رہے تھے تو کانگریس کا پہلا خاندان نیند سے محروم تھا، آج بھی وہ اس جھٹکے سے سنبھل نہیں پایا۔”

یہ پہلا موقع نہیں جب مودی پر فوج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگا ہو۔2019 کے انتخابات میں بھی انہوں نے ووٹروں سے اپیل کی تھی کہ وہ پلوامہ حملے اور بالاکوٹ ایئر اسٹرائیک کے نام پر بی جے پی کو ووٹ دیں۔

پہلے مرحلے میں اصل مقابلہ تین بڑی سیاسی قوتوں کے درمیان متوقع ہے:

  • نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (بی جے پی، جنتا دل یو)

  • مہاگٹھ بندھن (آر جے ڈی، کانگریس، انڈیا بلاک)

  • جن سوراج پارٹی (پرشانت کشور) — جو بطور نئی سیاسی طاقت ابھر رہی ہے۔

یہ انتخابات وزیراعلیٰ نتیش کمار کی 20 سالہ حکمرانی کا سب سے بڑا امتحان تصور کیے جا رہے ہیں۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت ایک بار پھر قوم پرستی اور پاکستان دشمنی کو انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ بنا رہی ہے، جس سے بی جے پی کی کمزور داخلی پوزیشن ظاہر ہوتی ہے۔
بہار کے کئی اضلاع میں انتخابی بے ضابطگیوں اور ووٹر لسٹوں میں چھیڑ چھاڑ کی اطلاعات نے بھی صورتحال کو مزید متنازع بنا دیا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.