حزب اللہ کا اسرائیل سے مذاکرات سے انکار — لبنانی صدر کا دوطرفہ بات چیت پر زور
بیروت — لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے واضح کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے سیاسی مذاکرات میں شامل نہیں ہوگی، تاہم تنظیم نے کہا ہے کہ اسے “اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت کا جائز حق حاصل ہے” اور وہ لبنانی فوج کی حمایت جاری رکھے گی۔
حزب اللہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ “لبنان اگرچہ جنگ بندی کا پابند ہے، مگر اسرائیل کے ساتھ مذاکرات اس کے ایجنڈے میں شامل نہیں۔”
تنظیم نے یہ مؤقف ایک ایسے وقت میں اختیار کیا ہے جب اسرائیل نے جنوبی لبنان پر حملوں میں تیزی لاتے ہوئے متعدد علاقوں میں فضائی اور زمینی کارروائیاں کی ہیں۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا کہ جنوبی لبنان میں جاری حملے روکنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی بات چیت کو “باہمی رضامندی” کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ لبنان یکطرفہ مذاکرات نہیں کرے گا، اور یہ بات چیت صرف اسی صورت ممکن ہے جب دونوں فریق رضامند ہوں۔
عون نے مزید کہا کہ لبنانی فوج رواں سال کے اختتام تک جنوبی لبنان میں 10,000 فوجیوں کی تعیناتی مکمل کرے گی تاکہ اقوام متحدہ کی امن فورس (UNIFIL) کے ساتھ مل کر جنگ بندی کی نگرانی کی جا سکے۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان گزشتہ نومبر کی جنگ بندی کے باوجود، دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات لگا رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے حملے حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے، ہتھیاروں کے ذخائر اور کمانڈ مراکز کو نشانہ بناتے ہیں۔
دوسری جانب لبنانی حکام نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ شہری علاقوں پر حملے کر رہا ہے اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہا ہے جس کا حزب اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔
جنگ بندی کے تحت یہ طے پایا تھا کہ لبنانی فوج اور UNIFIL دریائے لیتانی کے جنوب میں تعینات ہوں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کسی بھی غیر سرکاری مسلح گروپ کی سرگرمیاں نہ ہوں۔
اقوام متحدہ کے امن مشن کے مطابق فوج نے اب تک درجنوں مقامات پر تعیناتی مکمل کر لی ہے اور خلاف ورزیوں کی نگرانی کے لیے حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان فائر بندی لائن پر گشت بڑھا دیا گیا ہے۔