ہالینڈ کی اپیل کورٹ نے اسرائیل کو اسلحے کی برآمدات روکنے کی درخواست مسترد کر دی

0

دی ہیگ — ہالینڈ کی ایک اپیل عدالت نے فلسطین نواز گروپوں کی جانب سے دائر کردہ اس مقدمے کو مسترد کر دیا ہے، جس میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمدات اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندی عائد کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، دی ہیگ میں قائم عدالت نے جمعرات کو اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ“یہ ریاست کی صوابدید پر منحصر ہے کہ وہ اس معاملے میں کیا پالیسی اپناتی ہے، عدالت اس میں مداخلت نہیں کر سکتی۔”

عدالت نے مزید کہا کہ فلسطینی حامی گروپ یہ ثابت نہیں کر سکے کہ ڈچ حکومت اسلحے کی برآمدات کے انسانی حقوق پر اثرات کو نظر انداز کر رہی ہے۔

فلسطینی حامی تنظیموں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں کے نتیجے میں زیادہ شہری ہلاکتیں ہو رہی ہیں، اور 1948ء کے نسل کشی کنونشن کے تحت نیدرلینڈز پر لازم ہے کہ وہ اپنے دائرۂ اختیار میں نسل کشی کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے۔

تاہم عدالت نے کہا کہ اگرچہ غزہ میں انسانی جانوں کا نقصان ایک "سنگین خطرہ” ہے، مگر یہ معاملہ عدالت کے بجائے حکومت کے فیصلے سے متعلق ہے۔

ڈچ حکومت نے مؤقف اپنایا کہ وہ اسلحے کی برآمدات سے متعلق مسلسل جائزہ لے رہی ہے اور کئی حساس برآمدات پہلے ہی مسترد کی جا چکی ہیں۔
حکومتی ترجمان کے مطابق:“ہالینڈ نے اسرائیل کو زیادہ تر ہتھیاروں کی برآمد روک دی ہے، صرف دفاعی نوعیت کے پرزے جیسے آئرن ڈوم میزائل سسٹم کے اجزا کی اجازت دی جا رہی ہے۔”

درخواست گزار این جی اوز کے مطابق ہالینڈ نے اسرائیل کو F-16 طیاروں کے پرزے، ریڈار سسٹم، جنگی جہازوں کے آلات، پولیس کتے، کیمرے اور نگرانی کے سافٹ ویئر برآمد کیے ہیں۔
ان گروپوں کا کہنا تھا کہ یہ آلات غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں میں استعمال ہو سکتے ہیں، اس لیے ان کی برآمد انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

یہ فیصلہ گزشتہ سال دسمبر میں ایک نچلی عدالت کے فیصلے کی توثیق ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ ڈچ حکومت اسلحے کی برآمدات کے خطرات کا باقاعدگی سے جائزہ لیتی ہے اور عالمی معیارات کے مطابق فیصلے کرتی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.