اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کر دیے
یروشلم / بیروت — اسرائیلی فوج نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے متعدد ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ اسرائیل نے ان حملوں کو حزب اللہ کی جانب سے علاقے میں دوبارہ مسلح ہونے اور عسکری سرگرمیاں بحال کرنے کی کوششوں کا ردِعمل قرار دیا ہے۔
اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) کے عربی ترجمان اویچائے ادرعی نے حملوں سے قبل جنوبی لبنان کے متعدد دیہات کے رہائشیوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا “آپ حزب اللہ کے زیر استعمال عمارت میں موجود ہیں۔ اپنی حفاظت کے لیے فوراً عمارت سے کم از کم 500 میٹر کے فاصلے پر چلے جائیں۔ ان ڈھانچوں کے قریب رہنا آپ کی جانوں کے لیے خطرہ ہے۔”
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فضائی حملے طورہ (Tura) نامی گاؤں اور اس کے گردونواح میں کیے گئے، جہاں لبنانی فوجی اور عام شہری تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے نقصان کا اندازہ لگا رہے ہیں۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی ثالثی سے طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ نومبر 2024 میں نافذ ہوا تھا، جس نے ایک سال طویل سرحدی جھڑپوں کو ختم کیا تھا۔
معاہدے کے تحت:
-
اسرائیل نے جنوبی لبنان سے بتدریج انخلا اور جارحانہ کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا تھا۔
-
حزب اللہ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ دریائے لیتانی کے شمال سے اپنے بھاری ہتھیار واپس لے جائے گی۔
تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیاں کی ہیں، جس کے جواب میں یہ حملے کیے جا رہے ہیں۔ حزب اللہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیل پر جارحیت اور سیاسی بلیک میلنگ کا الزام عائد کیا ہے۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق، اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ جمعرات کی شام اجلاس منعقد کر رہی ہے، جس میں لبنان کی صورتحال ایجنڈے کا اہم حصہ ہو گی۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے پچھلے ہفتے اپنے وزراء سے حزب اللہ کے خلاف ممکنہ وسیع فوجی آپریشن پر مشاورت کی تھی۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعار نے بھی خبردار کیا تھا:“ہم اپنا سر ریت میں نہیں چھپا سکتے۔ حزب اللہ دوبارہ مسلح ہونے اور جارحانہ تیاریوں میں مصروف ہے۔”
لبنانی صدر جوزف عون نے حالیہ دنوں میں بیان دیا تھا کہ لبنان کے پاس اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا، ان کے الفاظ میں “جب جنگ نتیجہ خیز نہ ہو تو سفارتکاری ہی واحد راستہ رہ جاتی ہے۔”
ان کے اس بیان پر لبنان کے سیاسی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ حزب اللہ نے ردعمل میں کہا کہ “لبنان صہیونی دشمن کے ساتھ مذاکرات یا بلیک میلنگ کا شکار ہونے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ ایسے مذاکرات لبنانی خودمختاری کے لیے خطرناک ہیں۔”