لبنان کا اسرائیل کے ساتھ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کے عزم کا اعادہ

0

بیروت – لبنان کی اعلیٰ قیادت نے اسرائیل کے ساتھ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں جاری بالواسطہ مذاکراتی عمل کے تسلسل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ اور امن کے فیصلے صرف ریاست کے دائرہ اختیار میں ہیں۔

یہ مؤقف حزب اللہ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں تنظیم نے کسی بھی سیاسی بات چیت کو مسترد کر دیا تھا۔

نومبر 2024ء میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی نگرانی ایک بین الاقوامی کمیٹی کر رہی ہے جس میں اقوام متحدہ، امریکہ اور فرانس شامل ہیں۔یہ مذاکرات براہِ راست نہیں بلکہ الگ الگ سیشنز کی صورت میں ہوتے ہیں۔

صدر جوزف عون نے عالمی بینک کے وفد سے گفتگو میں کہا کہ“لبنان نومبر 2024 کے امن معاہدے کا پابند ہے، لیکن اسرائیل نے اس پر مکمل عمل نہیں کیا۔”

انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے مطابق اسرائیل کو ساٹھ دن کے اندر جنوبی لبنان سے انخلا کرنا تھا، مگر وہ اب بھی پانچ پہاڑی علاقوں پر قابض ہے۔
صدر عون کے مطابق اسرائیلی حملے اور فضائی خلاف ورزیاں لبنان کی خودمختاری کے لیے خطرہ ہیں۔

پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے کہا کہ “اسرائیل کے ساتھ نارملائزیشن ممکن نہیں۔ جو اس کا مطالبہ کرتا ہے وہ زمینی حقائق سے ناواقف ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ مذاکراتی طریقۂ کار ہی ایک عملی راستہ ہے جو تمام فریقوں — لبنان، اسرائیل، امریکہ، فرانس اور اقوام متحدہ — کو یکجا کرتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ لبنان کا مؤقف اسرائیلی دھمکیوں یا حملوں سے تبدیل نہیں ہوگا۔

وزیرِاعظم نواف سلام نے حزب اللہ کے مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “جنگ اور امن کے فیصلے صرف لبنانی ریاست کے پاس ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ لبنان عرب دنیا میں اپنے فطری کردار کی بحالی کی جانب بڑھ رہا ہے اور ملک کی خودمختاری، استحکام اور سکیورٹی کے تحفظ کے لیے عرب و عالمی حمایت حاصل کر رہا ہے۔

سلام نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ حکومت نے ہتھیاروں پر ریاستی اجارہ داری کے اصول پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے،جس کے پہلے مرحلے میں دریائے لیتانی کے جنوب میں غیر ریاستی اسلحے کے خاتمے کا منصوبہ جاری ہے۔

بیری نے بتایا کہ انہیں نئے انتخابی قانون کا مسودہ ابھی موصول نہیں ہوا۔حکومت نے ایک مسودہ منظور کیا ہے جس کے تحت غیر ملکی نشستیں ختم کر دی گئی ہیں اور بیرونِ ملک ووٹرز کو اپنی رجسٹریشن کے مطابق ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی ہے۔
تاہم بیری اور حزب اللہ ان تبدیلیوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.