سیول – شمالی کوریا نے امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان ہونے والے سیکیورٹی مذاکرات کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے مزید "جارحانہ کارروائی” کی دھمکی دی ہے۔
شمالی کوریا کے وزیرِ دفاع نو کوانگ چول نے کہا کہ سیئول اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والے مذاکرات اور جنوبی کوریا میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی آمد، دشمنانہ رویے کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم اپنی سلامتی کے تحفظ اور امن کے دفاع کے اصول پر دشمن کے خطرے کے خلاف مزید جارحانہ ردِعمل ظاہر کریں گے۔”
گزشتہ روز شمالی کوریا نے اپنے مشرقی ساحل سے سمندر کی جانب ایک بیلسٹک میزائل داغا تھا، جس سے قبل امریکا نے شمالی کوریا کے افراد اور اداروں پر سائبر منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے الزام میں پابندیاں عائد کی تھیں۔
جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع نے میزائل تجربے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا کی جانب سے سیکیورٹی مذاکرات پر اعتراض "افسوسناک” ہے۔ وزارت کے مطابق یہ ملاقاتیں خطے میں استحکام اور دفاعی تعاون کے لیے کی جاتی ہیں۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکا اور جنوبی کوریا کا اتحاد شمالی کوریا کو روکنے پر مرکوز رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اپنے فوجی اہلکاروں کے لیے خطے میں مزید لچک پیدا کرے گا تاکہ ممکنہ خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
شمالی کوریا نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن کے جنوبی کوریا کے بندرگاہی شہر بوسان کے دورے پر بھی شدید ردِعمل دیا، جب کہ جنوبی کوریا کی بحریہ نے وضاحت کی کہ یہ دورہ صرف سامان کی فراہمی اور عملے کے آرام کے لیے تھا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں کہا تھا کہ وہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے دوبارہ ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ تاہم، کوئی ملاقات طے نہیں ہو سکی۔
امریکی کمانڈ کے مطابق، شمالی کوریا کا تازہ ترین میزائل تجربہ خطے میں غیر مستحکم اثرات کا باعث بن رہا ہے، تاہم یہ امریکی اہلکاروں یا اتحادیوں کے لیے فوری خطرہ نہیں ہے۔