ملائیشیا کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی الٹ گئی، 7 ہلاک — درجنوں لاپتا
کوالالمپور — تھائی لینڈ اور ملائیشیا کی سرحد کے قریب ایک اندوہناک واقعہ میں تارکینِ وطن کی کشتی الٹنے سے کم از کم 7 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ درجنوں اب تک لاپتا ہیں۔ کشتی میں تقریباً 300 افراد سوار تھے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، یہ کشتی میانمار کے علاقے بوٹھی داونگ سے تین روز قبل روانہ ہوئی تھی۔ راستے میں جب کشتی ملائیشیا-تھائی لینڈ سرحد کے قریب پہنچی تو سمگلروں نے حکام کی نظروں سے بچنے کے لیے مسافروں کو تین چھوٹی کشتیوں میں تقسیم کر دیا۔ ہر کشتی میں تقریباً 100 افراد سوار تھے۔
ان میں سے ایک کشتی الٹ گئی جس کے نتیجے میں سات لاشیں برآمد ہوئیں — ان میں ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ صرف 10 افراد کو زندہ بچایا جا سکا، جبکہ باقیوں کی تلاش جاری ہے۔
ملائیشین میری ٹائم اتھارٹی کے مطابق، زندہ بچ جانے والوں میں
-
3 میانماری،
-
2 روہنگیا
-
اور 1 بنگلہ دیشی شہری شامل ہیں۔
قداح پولیس چیف عزلِی ابو شاہ کے مطابق تمام مسافر غیر قانونی طور پر ملائیشیا داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
رپورٹس کے مطابق، روہنگیا اور دیگر تارکینِ وطن اکثر سمندری راستے سے میانمار سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔
میانمار میں انہیں شہریت سے محرومی، امتیازی سلوک اور ریاستی جبر کا سامنا ہے، جس کے باعث ہزاروں لوگ خطرناک سفر پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
ملائیشین میری ٹائم ایجنسی اور کوسٹ گارڈز نے ریسکیو آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ درجنوں افراد تاحال لاپتا ہیں۔