ایران میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا، تہران کے نلکے خشک ہونے لگے
تہران — ایران دہائیوں میں اپنے بدترین پانی کے بحران کا سامنا کر رہا ہے، اور حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر خشک سالی جاری رہی تو تہران، جس کی آبادی 10 ملین سے زائد ہے، جلد ناقابلِ رہائش ہو سکتا ہے۔
صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ اگر دسمبر تک بارشیں نہ آئیں تو حکومت کو تہران میں پانی کی راشننگ شروع کرنا پڑے گی، اور اس صورت میں شہریوں کو شہر چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔
بحران کے بنیادی عوامل
-
کم بارشیں: گزشتہ سال کی بارشیں 57 سالہ اوسط سے 40 فیصد کم تھیں۔
-
بدانتظامی: ڈیموں کی زیادہ بھرائی، کنووں کی غیر قانونی کھدائی، اور غیر موثر زرعی طریقوں نے ذخائر کو نقصان پہنچایا۔
-
زیادہ استعمال: تہران میں شہری روزانہ 130 لیٹر سے زیادہ پانی استعمال کر رہے ہیں، جو معیاری مقدار سے کافی زیادہ ہے۔
-
موسمیاتی تبدیلی: خشک سالی اور بڑھتی ہوئی گرمی بھی بحران کو شدت دے رہی ہے۔
حالیہ صورتحال
-
تہران کے پانچ اہم آبی ذخائر نصف صلاحیت پر ہیں، اور امیر کبیر ڈیم میں پانی صرف 14 ملین کیوبک میٹر رہ گیا ہے، جو اس کی 8 فیصد صلاحیت ہے۔
-
شہر کے کچھ علاقوں میں پانی کی سپلائی رات کے وقت تقریباً صفر تک گر رہی ہے۔
-
ملک بھر میں 19 بڑے ڈیمز مؤثر طریقے سے خشک ہو چکے ہیں، جو ایران کے کل ڈیم ذخائر کا تقریباً 10 فیصد ہیں۔
سماجی اثرات
-
شہری بارش کے بغیر پانی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے باعث روزمرہ زندگی کے بنیادی امور جیسے پانی ذخیرہ کرنا، صفائی، اور دسترخوانی متاثر ہو رہے ہیں۔
-
ایران میں 2021 میں پانی کی قلت نے جنوبی صوبہ خوزستان میں پرتشدد مظاہروں کو جنم دیا تھا۔
-
شہری، خاص طور پر تہران کے رہائشی، پانی، بجلی اور گیس کی مسلسل قلت سے ذہنی دباؤ میں ہیں۔
حکومتی موقف
-
پیزشکیان نے پانی کے بحران کا ذمہ دار ماضی کی حکومتوں کی پالیسیاں، ضرورت سے زیادہ استعمال، اور موسمیاتی تبدیلی قرار دیا ہے۔
-
تہران کی نیشنل واٹر اینڈ ویسٹ واٹر کمپنی نے باضابطہ راشننگ کی خبریں مسترد کی ہیں، لیکن پانی کے دباؤ میں کمی کی تصدیق کی گئی ہے۔
ماہرین کی تشویش
-
موجودہ ذخائر اور موجودہ استعمال کی شرح کے مطابق، تہران کے ذخائر صرف دو ہفتوں میں خشک ہو سکتے ہیں۔
-
پانی کی مسلسل کمی سے معیشت اور سماجی استحکام پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اور بدامنی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔