امریکا کا کیریبین میں "سدرن سپیئر” فوجی آپریشن کا آغاز — وینزویلا سے کشیدگی میں اضافہ، خطے میں صورتحال سنگین
واشنگٹن – امریکا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر بحیرہ کیریبین میں "سدرن سپیئر” کے نام سے نیا فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے جسے ماہرین خطے میں وینزویلا کے خلاف ممکنہ فوجی اقدام کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اس آپریشن کا سرکاری اعلان کیا۔
وزیر دفاع کے مطابق اس آپریشن کا مقصد مغربی نصف کرہ میں منشیات کی سمگلنگ میں ملوث دہشت گرد گروہوں کو نشانہ بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ:
-
آپریشن کی قیادت امریکی مسلح افواج کی جوائنٹ ٹاسک فورس ساوتھ کوم کر رہی ہے
-
مشن کا بنیادی ہدف امریکا کو منشیات کے "مہلک اثرات” سے بچانا ہے
-
سدرن کمانڈ 31 ممالک میں ہنگامی منصوبہ بندی، سکیورٹی تعاون اور آپریشنز کی نگران ہے
منشیات کے خلاف اس مہم کے دوران امریکا نے گزشتہ ہفتے دنیا کے سب سے بڑے طیارہ بردار بحری جہاز "یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ” کو کیریبین اور لاطینی امریکا کے پانیوں میں بھیج دیا ہے، جس سے وہاں موجود امریکی بحری قوت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
مزید جنگی جہاز پہلے ہی خطے میں تعینات کیے جا چکے ہیں۔
سی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق:
-
امریکی حکام نے وینزویلا کے خلاف متعدد فوجی آپشنز صدر ٹرمپ کو پیش کر دیے ہیں
-
تاہم ان میں سے کسی پر فی الحال حتمی فیصلہ نہیں ہوا
امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ:
-
خطے میں فوجی موجودگی کا مقصد بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں کو کمزور کرنا ہے
-
اب تک 21 کارروائیاں کی جا چکی ہیں
-
ان حملوں میں 80 سے زائد افراد مارے گئے
تاہم اب تک امریکا اپنے دعوؤں کے حق میں ٹھوس شواہد سامنے نہیں لا سکا۔
وینزویلا کا ردعمل — "امریکا بلاجواز جنگ شروع کر رہا ہے”
وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو نے امریکا کے اقدامات کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ:
-
امریکا خطے میں بلاجواز جنگ کی بنیاد رکھ رہا ہے
-
سدرن سپیئر کا مقصد انہیں اقتدار سے ہٹانا ہے
-
امریکی بحریہ کی موجودگی "گزشتہ ایک صدی کا سب سے بڑا خطرہ” ہے
مادورو نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ امریکا کا یہ اقدام پورے براعظم کے لیے عدم استحکام کا باعث بنے گا۔