بیجنگ — چین نے اپنے مستقل طور پر آباد تیانگونگ خلائی اسٹیشن کے لیے شینزو-22 خلائی جہاز کی روانگی کی تیاریاں معمول سے کئی ماہ پہلے شروع کر دی ہیں۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب گزشتہ ہفتے شینزو-20 واپسی کے دوران نقصان کا شکار ہوگیا تھا، جس کے باعث چینی انسان بردار خلائی مشنز کے شیڈول میں ہنگامی تبدیلیاں کرنا پڑیں۔
سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق شینزو-22 کو مقررہ لانچ سے چھ ماہ قبل بغیر کسی خلا باز کے روانہ کیا جائے گا تاکہ اسٹیشن پر موجود عملے کو ہنگامی صورت حال میں محفوظ طریقے سے واپس لانے کے لیے نیا خلائی جہاز دستیاب ہو سکے۔
شینزو-20 کو واپسی میں نقصان — 9 دن اضافی قیام کی مجبوری
چین کے شینزو مشنز 2021 سے مکمل طور پر شیڈول کے مطابق جاری تھے، لیکن دس روز قبل شینزو-20 کے ڈاکنگ کے وقت نقصان نے صورتحال تبدیل کر دی۔ خلائی جہاز کے واپسی کیپسول کی کھڑکی میں معمولی شگاف پڑنے کے شبہ کے بعد تین رکنی عملہ اپنے مشن کے اختتام پر بھی فوری طور پر واپس نہیں آ سکا اور انہیں مزید نو دن خلائی اسٹیشن پر رکنا پڑا۔
جمعہ کے روز شینزو-20 کے خلاباز بالآخر شینزو-21 کے ذریعے زمین پر واپس آگئے۔ شینزو-21 دو ہفتے قبل بطور "ہنگامی واپسی گاڑی” اسٹیشن پر بھیجا گیا تھا۔
ہنگامی خطرے کے پیش نظر شینزو-22 کی قبل از وقت روانگی
سی سی ٹی وی کے مطابق شینزو-22 کا مشن اس لیے جلد شروع کیا جا رہا ہے تاکہ:
-
اسٹیشن پر موجود شینزو-21 کی جگہ نیا محفوظ ’’ریسکیو شٹل‘‘ موجود ہو
-
موجودہ عملے کو منصوبہ بندی کے مطابق اپریل 2026 میں واپس لایا جا سکے
-
خلائی اسٹیشن کی سپلائی لائن میں خلل نہ آئے
شینزو-22 مکمل کارگو کے ساتھ بھیجا جائے گا، جس میں اسٹیشن کے لیے آلات اور خلابازوں کی روزمرہ سپلائیز شامل ہوں گی۔
تیانگونگ کی گنجائش اور تکنیکی چیلنجز
تیانگونگ ایک وقت میں چھ افراد کو عارضی طور پر رکھ سکتا ہے، لیکن اسے طویل مدتی طور پر تین افراد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کے باعث ہنگامی واپسی جہاز کی موجودگی انتہائی ضروری ہے۔
چین نے ابھی تک نقصان زدہ شینزو-20 کی مستقبل کی کارروائی پر کوئی حتمی اعلان نہیں کیا، لیکن ماہرین کے مطابق اسے اسٹیشن سے الگ کر کے بحرالکاہل کے اوپر ڈی-آربیٹ کیا جا سکتا ہے۔