غزہ میں بین الاقوامی فوج کی تعیناتی:اقوام متحدہ آج قرارداد پر ووٹنگ کرے گی

0

نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اہم اجلاس آج منعقد ہو رہا ہے جس میں امریکی مسودہ قرارداد پر ووٹنگ کی جائے گی۔ یہ قرارداد سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی توثیق کرتی ہے اور اسی منصوبے کے تحت غزہ میں ایک بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کی تعیناتی کی تجویز پیش کرتی ہے۔

امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس منصوبے پر عملدرآمد نہ ہوا تو غزہ میں لڑائی دوبارہ بھڑک سکتی ہے۔ مسودہ قرارداد میں کئی بار نظرِ ثانی کی گئی ہے، جبکہ یہ وہی منصوبہ ہے جس کے تحت اسرائیل اور حماس کے درمیان 10 اکتوبر کو جنگ بندی ممکن ہوئی تھی۔ اس کے باوجود غزہ میں اسرائیلی حملے جاری ہیں اور فلسطینی شہری روزانہ کی بنیاد پر اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔

تازہ ترین مسودے کے مطابق آئی ایس ایف کو سرحدی علاقوں کی سیکیورٹی، غزہ کی غیر فوجی حیثیت کی بحالی، مسلح گروہوں سے ہتھیاروں کا خاتمہ، شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی راہداریوں کو محفوظ بنانے کا مینڈیٹ دیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ غزہ کے لیے ایک عبوری گورننگ باڈی بورڈ آف پیس بھی تشکیل دی جائے گی جس کا مینڈیٹ 2027 کے آخر تک ہوگا۔

مسودے کے موجودہ ورژن میں پہلی مرتبہ مستقبل میں ممکنہ فلسطینی ریاست کا ذکر شامل کیا گیا ہے۔ قرارداد کہتی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اصلاحات اور غزہ کی تعمیرِ نو کے بعد فلسطینیوں کی خود ارادیت اور ریاستی حیثیت کے لیے ایک قابلِ اعتماد راستہ موجود ہو سکتا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کابینہ اجلاس میں واضح کیا ہے کہ اسرائیل کی کسی بھی سرزمین پر فلسطینی ریاست کی مخالفت میں "کوئی تبدیلی نہیں آئی”۔

روسی اعتراضات اور متبادل مسودہ

سیکورٹی کونسل کے مستقل رکن روس نے ایک متبادل مسودہ پیش کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی مسودہ ’’فلسطینی ریاست کی حمایت کے لیے ناکافی‘‘ ہے۔ روسی موقف کے مطابق کونسل کو دو ریاستی حل پر غیر متزلزل عزم ظاہر کرنا چاہیے، جبکہ کسی بین الاقوامی فورس یا بورڈ آف پیس کی فوری منظوری نہ دی جائے بلکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے اس حوالے سے آپشنز طلب کیے جائیں۔

امریکہ نے روسی مسودے کو ’’کونسل میں اختلافات پیدا کرنے کی کوشش‘‘ قرار دیتے ہوئے اپنی قرارداد کے حق میں سفارتی مہم تیز کر دی ہے۔

سلامتی کونسل میں ووٹنگ آج شام 5 بجے متوقع ہے، جس کے نتیجے میں غزہ کے مستقبل اور خطے کی سفارتی حرکیات پر گہرا اثر پڑنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.