بھارتی مسلمان کا انتہاپسند ہندؤوں کے ہاتھوں قتل : حکومت کا ملزمان کو بچانے کیلئے کیس واپس لینے کا فیصلہ
بھارتی ریاست اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے مشہورِ زمانہ دادری ہجومی تشدد کیس واپس لینے کی کارروائی شروع کر دی ہے، جس میں بے گناہ مسلمان شہری محمد اخلاق کو گائے کا گوشت کھانے کے جھوٹے شبہے میں ہجوم نے تشدد کرکے قتل کر دیا تھا۔ یہ واقعہ 2015 میں پیش آیا تھا اور پورے بھارت میں فرقہ وارانہ تشدد، نفرت پر مبنی جرائم اور ہجومی حملوں کے حوالے سے سنگین مباحثے کا باعث بنا تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ گورنمنٹ وکیل بھاگ سنگھ بھاٹی نے تصدیق کی ہے کہ ریاستی حکومت نے سورج پور ڈسٹرکٹ کورٹ سے باقاعدہ درخواست دی ہے کہ اخلاق قتل کیس کے تمام ملزمان کے خلاف مقدمہ واپس لینے کی اجازت دی جائے۔ اس درخواست پر 12 دسمبر کو سماعت مقرر ہے۔
واقعے کے بعد گوشت کے نمونوں کی فرانزک رپورٹ نے واضح کیا تھا کہ اخلاق کے گھر سے برآمد ہونے والا گوشت بکرے کا تھا، جس سے ثابت ہوا کہ ان پر لگایا گیا الزام غلط اور بے بنیاد تھا۔ اس کے باوجود اس کیس نے بھارت میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی، اقلیتوں کے خلاف حملوں اور ہجومی تشدد کے رجحان کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔
اس واقعے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں گائے کے گوشت پر پابندی کے خلاف ہونے والے مظاہرین کو بھی پولیس تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس سے تنازع مزید شدید ہوگیا تھا۔
ریاستی حکومت کی جانب سے اب مقدمہ واپس لینے کی کوشش نے ایک مرتبہ پھر انسانی حقوق، انصاف کے عمل اور اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق سوالات کو جنم دیا ہے۔