اسرائیلی وزیراعظم کے بعد وزرا نے بھی فلسطینی ریاست کے قیام کی کھل کر مخالفت کر دی

0

تل ابیب ۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کے بعد ان کی کابینہ کے کئی وزرا نے بھی اسی مؤقف کو دہراتے ہوئے امریکہ کی مجوزہ قرارداد کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اس قرارداد میں تباہ حال غزہ کے لیے عبوری انتظامیہ، عارضی بین الاقوامی سکیورٹی فورس اور مستقبل میں ممکنہ فلسطینی ریاست کے قیام کا ذکر شامل ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر خزانہ بیزالیل سموٹرچ اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کسی بھی صورت فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دے گی۔ امریکہ کی زیرِ سرپرستی تیار کردہ اس قرارداد کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے، جس کا اسرائیلی وزیراعظم پہلے ہی برملا اظہارِ مخالفت کر چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق قرارداد کے نئے مسودے میں فلسطینی ریاست کے مستقبل کا حوالہ شامل کیے جانے پر اسرائیلی سیاسی حلقوں میں بھی تنقید بڑھ گئی ہے۔ وزیر خزانہ سموٹرچ نے نیتن یاہو پر دباؤ ڈالتے ہوئے کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ممالک کو فوری اور سخت جواب دیا جائے تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ اسرائیل اپنی سرزمین پر ایسی کسی ریاست کو قبول نہیں کرے گا۔

وزیراعظم نیتن یاہو نے ردعمل میں کہا کہ انہیں کسی کی توثیق یا لیکچر کی ضرورت نہیں، جبکہ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اپنے بیان میں دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی پالیسی بالکل واضح ہے—فلسطینی ریاست کبھی قائم نہیں ہوگی۔

یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہا ہے جب دنیا کے کئی ممالک نے حالیہ عرصے میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ غزہ میں جنگ بندی اور مستقبل کے سیاسی حل کے حوالے سے عالمی سطح پر کوششیں تیز ہو چکی ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.