کینیڈا اور امریکا میں بھارتی حکام کی مبینہ مداخلت کے حوالے سے نئے انکشافات سامنے آ گئے
کینیڈا اور امریکا میں بھارتی حکام کی مبینہ مداخلت کے حوالے سے نئے انکشافات سامنے آئے ہیں، جن میں انٹرسیپٹڈ کمیونی کیشنز کے ذریعے بھارتی حکومت کے ممکنہ طور پر خفیہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے شواہد رپورٹ کیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی ریاستی دہشت گردی اب واضح طور پر بین الاقوامی سرحدوں کو عبور کر چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت میں انتہا پسند ہندوتوا نظریے نے ریاستی اداروں کو گہرائی تک متاثر کیا ہے، جبکہ وزیراعظم نریندر مودی اور امیت شاہ کے دور میں بھارت ایک جارحانہ اور غیر ذمہ دار ریاست میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق بھارتی حکومت بیرون ملک ناقد آوازوں کو خاموش کرانے کے لیے خفیہ آپریشنز میں ملوث پائی گئی ہے۔
کینیڈا میں سکھ رہنما کے قتل اور امریکا میں ناکام حملے کی سازش دونوں ہی واقعات میں بھارتی ایجنسیوں پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ سرحد پار دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔ ان کارروائیوں نے نہ صرف عالمی سطح پر بھارت کے کردار پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی بھی تصدیق کر دی ہے، جس کے مطابق بھارت اپنے توسیع پسندانہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے covert آپریشنز استعمال کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ شواہد بھارت کا اصل چہرہ ایک بار پھر عالمی برادری کے سامنے لے آئے ہیں، اور اب ان واقعات سے بین الاقوامی فورمز پر نئی بحث کا آغاز متوقع ہے۔