شیخ حسینہ واجد نے سزائے موت کے عدالتی فیصلے کو “سیاست زدہ اورجانبدار قراردےدیا
بنگلادیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبیونل کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کے فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے “سیاست زدہ، جانبدار اور عوامی لیگ کو کمزور کرنے کی کوشش” قرار دیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد جاری کردہ ایک آڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور وہ الزامات ثابت کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گی۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ ابھی زندہ ہیں اور وقت آنے پر تمام حقائق قوم کے سامنے لائیں گی۔ دوسری جانب حسینہ واجد کے بیٹے سجیب واجد نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی والدہ اس وقت بھارت میں موجود ہیں جہاں بھارتی فوج انہیں سکیورٹی فراہم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق عدالتی فیصلہ سیاسی نوعیت رکھتا ہے اور اس سے ان کی والدہ کے مؤقف یا سیاسی وزن پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
واضح رہے کہ خصوصی عدالت نے شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق پانچ اہم الزامات کا سامنا تھا، جن میں سے دو الزامات پر سزائے موت جبکہ تین پر عمر قید سنائی گئی۔ عدالت کے مطابق گزشتہ سال طلبا کی تحریک کے دوران 1,400 افراد کی ہلاکت، شہریوں کے خلاف مہلک ہتھیاروں کا استعمال اور دیگر سنگین الزامات مقدمے کا حصہ تھے۔
اسی مقدمے میں سابق وزیر داخلہ اسد الزمان کو بھی انسانیت کے خلاف جرائم میں شریک مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی گئی ہے۔ تحقیقات کے دوران ریاست سے تعاون کرنے پر سابق آئی جی پولیس چوہدری عبداللہ مامون کی سزا کو موت سے کم کرکے پانچ برس قید میں تبدیل کیا گیا۔
بنگلادیشی سیاسی منظرنامہ اس فیصلے کے بعد شدید ہلچل کا شکار ہے جہاں حکومتی اور اپوزیشن حلقوں میں تجزیے، الزامات اور جوابی بیانات کا سلسلہ تیز ہو چکا ہے۔