سعودی ولی عہد محمد بن سلمان امریکہ پہنچ گئے، ٹرمپ کاوائٹ ہاؤس میں تاریخی استقبال

0

واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد اور وزیرِاعظم محمد بن سلمان کا وائٹ ہاؤس میں باقاعدہ اور شاندار انداز میں خیرمقدم کیا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنا اور ولی عہد کی عالمی شبیہ کو تقویت دینا ہے، جو 2018 میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد شدید تنقید کی زد میں آئے تھے۔

سات سال سے زائد عرصے بعد اپنے پہلے وائٹ ہاؤس دورے میں بن سلمان کا استقبال جنوبی لان میں خصوصی تقریب کے ذریعے کیا گیا۔ امریکی اور سعودی پرچموں سے سجی اس تقریب نے دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کے نئے مرحلے کی نشاندہی کی۔

اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں سلامتی کے تعاون، سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور اربوں ڈالر کے تجارتی منصوبوں پر پیش رفت کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق دونوں ملک دفاعی سازوسامان، سول نیوکلیئر تعاون اور امریکی AI انفراسٹرکچر میں بڑے پیمانے پر سعودی سرمایہ کاری پر بھی معاہدے کرنے والے ہیں۔

ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں تصدیق کی کہ امریکہ سعودی عرب کو 48 F-35 لڑاکا طیارے فروخت کرے گا۔ یہ قدم پہلی بار سعودی عرب کو امریکی اسٹیلتھ فائٹر کی براہِ راست فراہمی کا باعث بنے گا، جو مشرقِ وسطیٰ میں فوجی توازن کو تبدیل کر سکتا ہے۔ اب تک خطے میں صرف اسرائیل کے پاس F-35 طیارے موجود ہیں۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ یہ دورہ مئی میں سعودی عرب کے 600 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری وعدوں کی عملی شکل کے لیے بھی اہم ہے، جن میں متعدد اقتصادی اور ٹیکنالوجی سے متعلق منصوبے شامل ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے باضابطہ قیام کے حوالے سے سعودی فیصلے کی کوئی بڑی پیش رفت متوقع نہیں، تاہم وائٹ ہاؤس میں بن سلمان کا پرتپاک استقبال اس بات کی علامت ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات خاشقجی قتل کے بعد سامنے آنے والے سفارتی تناؤ سے آگے بڑھ چکے ہیں۔

ولی عہد کی وائٹ ہاؤس مصروفیات میں اوول آفس میٹنگ، کیبنٹ روم میں لنچ اور شام کو سرکاری بلیک ٹائی ڈنر شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دورہ عالمی سیاست میں سعودی کردار اور ٹرمپ انتظامیہ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کو قطر جیسے نئے سیکیورٹی گارنٹیز دینے پر بھی غور کریں گے، اگرچہ مکمل نیٹو طرز کا معاہدہ فی الحال متوقع نہیں ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.