مالی کی فوج نے دو دیہات میں کارروائیوں کے دوران کم از کم 31 افراد کو ہلاک کر دیا
ہیومن رائٹس واچ (HRW) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ مالی کی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیا نے وسطی سیگو ریجن کے دو دیہات میں کارروائیوں کے دوران کم از کم 31 افراد کو ہلاک کر دیا۔ یہ علاقے القاعدہ سے منسلک جنگجو گروپ جماعت نصرت الاسلام والمسلمین (JNIM) کی سرگرمیوں کے باعث سیکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی حساس سمجھے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پہلا حملہ 2 اکتوبر کو کمونا گاؤں میں ہوا، جہاں فوجی اور ملیشیا اہلکاروں نے کم از کم 21 دیہاتیوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا اور متعدد گھروں کو نذرِ آتش کر دیا۔ دوسرا حملہ کمونا سے تقریباً 55 کلومیٹر دور بالے گاؤں میں پیش آیا، جہاں ایک خاتون سمیت کم از کم 10 افراد جان سے گئے۔
عینی شاہدین نے HRW کو بتایا کہ فورسز نے مقامی آبادی پر JNIM کے ساتھ تعاون کا الزام لگایا جس کے بعد انہیں نشانہ بنایا گیا۔ ایک مقامی چرواہے نے بتایا کہ وہ اپنی نو سالہ بیٹی کے ساتھ ایک خالی گھر میں چھپ کر جان بچانے میں کامیاب ہوا، تاہم بعد میں اس نے فائرنگ سے ہلاک 17 افراد کی لاشیں دیکھیں۔
افریقی یونین اور مالی کی فوج کے ترجمانوں نے واقعے سے متعلق رائٹرز کے سوالات کا فوری جواب نہیں دیا۔
HRW نے مالی حکومت سے ان ہلاکتوں کی غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور افریقی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ تنازعے کے خاتمے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
مغربی افریقہ کا یہ لینڈ لاکڈ ملک طویل عرصے سے جہادی گروپوں کے دباؤ میں ہے، جنہوں نے ریاستی فورسز پر تواتر کے ساتھ حملے کیے ہیں اور حالیہ مہینوں میں ایندھن کی سپلائی بھی روک دی ہے، جس کے باعث اسٹیشنوں پر طویل قطاریں اور ڈیزل جنریٹرز کے استعمال میں مشکلات پیدا ہوئیں۔
مالی کے وزیرِ خارجہ نے اس ہفتے ایک بیان میں اس تاثر کو مسترد کیا کہ جنگجو جلد ہی دارالحکومت بماکو کا رخ کر سکتے ہیں، اور کہا کہ یہ خیال ’’ناقابلِ فہم‘‘ ہے۔