محمد بن سلمان سوڈان جنگ کے خاتمے کیلئےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مداخلت کا مطالبہ کریں گے: رائٹرز کا دعویٰ
تل ابیب/ریاض — سفارتی ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد اور ڈی فیکٹو حکمران محمد بن سلمان منگل کو واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سوڈان میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ذاتی طور پر کردار ادا کرنے کی درخواست کریں گے۔ اس حوالے سے دو عرب اور تین مغربی سفارت کاروں نے بتایا کہ سعودی قیادت کا خیال ہے کہ جنگ بندی کے لیے جاری مذاکرات میں موجود تعطل کو ختم کرنے کے لیے ٹرمپ کا براہِ راست دباؤ ضروری ہے۔
ذرائع کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان کی رائے ہے کہ سوڈان میں ڈھائی سال سے جاری تنازعے کے حل کے لیے فیصلہ کن سفارتی اقدام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس تناظر میں گزشتہ ماہ غزہ میں جنگ بندی کے حصول میں ٹرمپ کے کردار کی مثال بھی پیش کی۔
سوڈان میں یہ تنازعہ 2023 میں اُس وقت شروع ہوا جب سویلین حکومت کی طرف منتقلی سے قبل سوڈانی مسلح افواج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان اقتدار کی کشمکش شدید ہو گئی۔ اس لڑائی نے ملک کو نسلی تشدد، بڑے پیمانے پر تباہی، انسانی ہجرت اور تقسیم کے خطرے سے دوچار کر رکھا ہے۔ دونوں فریق حالیہ مہینوں میں ڈرون حملوں پر انحصار بڑھاتے نظر آتے ہیں، جس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ سعودی عرب ٹرمپ کے سامنے یہ معاملہ اس امید کے ساتھ رکھ رہا ہے کہ امریکی صدر بین الاقوامی تنازعات میں ثالثی کو اپنی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ٹرمپ مختلف مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ وہ عالمی امن کے لیے اپنی کوششوں پر نوبل انعام کے خواہاں ہیں۔
سوڈانی تنازعے پر گفتگو کے حوالے سے سعودی منصوبہ مڈل ایست آئی کی رپورٹ میں بھی سامنے آیا تھا۔ سعودی حکومت کے میڈیا آفس نے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
امریکہ، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور مصر اس معاملے پر تشکیل دیے گئے غیر رسمی گروپ “کواڈ” کے رکن ہیں، تاہم اب تک اس پلیٹ فارم کے ذریعے کسی قابلِ ذکر پیش رفت کی اطلاع نہیں مل سکی ہے۔
سعودی عرب کے لیے سوڈانی تنازعے کا حل اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ سوڈان کی طویل ساحلی پٹی براہِ راست مملکت کے بحیرہ احمر کے ساحل کے مقابل واقع ہے، جسے سعودی قومی سلامتی سے جوڑا جاتا ہے۔