غزہ میں امن فورسز کی تعیناتی کے متعلق قرارداد پر حماس، اسلامی جہاد اور یمن کا سخت ردِعمل

0

تہران ۔ فلسطینی مزاحمتی گروپوں حماس اور اسلامی جہاد نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غزہ سے متعلق نئی منظور شدہ قرارداد 2803 کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قرارداد فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں ناکام ہے اور خطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

سلامتی کونسل نے امریکی سرپرستی میں پیش کی گئی اس قرارداد کو متعدد بار نظرثانی کے بعد منظور کیا، جس کا مقصد غزہ میں بین الاقوامی امن و استحکام کے نام پر ایک مشن کو فعال کرنا ہے۔ قرارداد میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجویز کردہ 20 نکاتی منصوبے کی منظوری بھی شامل ہے، جسے اسرائیل اور حماس کے درمیان 10 اکتوبر کی جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

حماس کے پولٹ بیورو کے رکن محمد نازل نے کہا کہ نظرثانی کے باوجود مسودہ فلسطینی عوام کے مطالبات پورے نہیں کرتا اور یہ غزہ پر اقوام متحدہ کی چھتری تلے "بین الاقوامی سرپرستی” مسلط کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حماس مختلف ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ قرارداد کا نفاذ کسی نئے تنازع کا باعث نہ بنے اور شہریوں پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔

فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک نے بھی قرارداد کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے مذاکراتی عمل کے خلاف امریکی بغاوت قرار دیا۔ ترجمان محمد الحاج موسیٰ نے کہا کہ مزاحمتی گروہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے پر مکمل طور پر عمل کر رہے ہیں اور دوسرے مرحلے کی تیاری جاری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عوامی رضامندی کے بغیر غزہ میں داخل ہونے والی کوئی بھی بین الاقوامی فورس ’’قابض قوت‘‘ تصور ہوگی۔

ادھر یمن کی وزارت خارجہ نے بھی قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلسطینیوں کے بنیادی حقوق، خصوصاً قبضے کے خاتمے، حقِ خود ارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حق کو نظرانداز کرتی ہے۔ وزارت نے واضح کیا کہ ایسے کوئی بھی منصوبے جو ان حقوق کو نظرانداز کریں، کامیاب نہیں ہو سکتے۔

سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کو 13 ووٹ ملے جبکہ چین اور روس نے ووٹنگ میں حصہ لینے سے انکار کیا۔ قرارداد کے تحت ایک عبوری امن کونسل غزہ کی تعمیر نو کی نگرانی کرے گی جبکہ ایک بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس کو اسلحے کی تحویل اور عسکری ڈھانچے کے خاتمے سمیت تخفیفِ اسلحہ کی کارروائیوں کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.