امریکی کانگریس کا جنسی مجرم اور بااثر فنانسر ایپسٹین فائلز جاری کرنے کا فیصلہ، ٹرمپ انتظامیہ کی مزاحمت ناکام
واشنگٹن میں امریکی سیاست اس وقت ایک اہم موڑ سے گزری جب کانگریس نے تقریباً اتفاقِ رائے سے محکمہ انصاف کو جیفری ایپسٹین سے متعلق تحقیقاتی فائلیں جاری کرنے کا پابند بنا دیا، باوجود اس کے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کئی ہفتے اس اقدام کو روکنے کی کوشش کرتی رہی۔
ریپبلکن اکثریت والے ایوانِ نمائندگان میں ارکان کی طویل مہم منگل کے روز کامیاب ہوئی، جس کے بعد ایوان اور سینیٹ دونوں نے تیزی سے بل منظور کیا۔ یہ فائلیں ایپسٹین—جو ایک سزا یافتہ جنسی مجرم اور بااثر فنانسر تھا—کے خلاف تحقیقات پر مشتمل ہیں۔
ایپسٹین کی سابقہ سماجی قربت، ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور میں سیاسی مسائل کا باعث بنی۔ 1990 اور 2000 کی دہائی میں دونوں کے قریبی مراسم تھے، لیکن بعد ازاں راستے جدا ہو گئے۔ ایپسٹین کی 2019 میں مین ہٹن جیل میں مشتبہ خودکشی کے بعد ٹرمپ کے حامیوں میں شکوک بڑھ گئے کہ انتظامیہ نے ایپسٹین کے طاقتور افراد سے ممکنہ روابط چھپائے۔
بل روکنے کے لیے ٹرمپ ٹیم نے قانون سازوں پر دباؤ ڈالا اور حتیٰ کہ ایک نو منتخب ڈیموکریٹ کی حلف برداری میں تاخیر بھی کی، لیکن ریپبلکن ارکان نے صدر کی خواہش کے برعکس ووٹنگ آگے بڑھائی۔ سینیٹ میں بل کی منظوری کے بعد وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ اس پر دستخط کریں گے۔
یہ صورتحال ٹرمپ کے پارٹی پر کنٹرول کی حدود ظاہر کرتی ہے۔ ایک تازہ سروے کے مطابق ایپسٹین معاملے کے بعد ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کم ہو کر سال کی کم ترین سطح پر آگئی، جبکہ صرف 44 فیصد ریپبلکنز نے ایپسٹین کیس سے متعلق ان کی حکمت عملی کی تائید کی۔ مزید 60 فیصد امریکی عوام کا ماننا ہے کہ حکومت ایپسٹین کی موت سے متعلق معلومات چھپا رہی ہے۔
ایپسٹین، جس نے 2008 میں سنگین جسم فروشی کے الزام میں سزا قبول کی تھی، 2019 میں نابالغ لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ کے الزامات میں دوبارہ گرفتار ہوا تھا۔ تاہم تاحال ایسی کوئی ٹھوس معلومات سامنے نہیں آئیں جو ٹرمپ کے خلاف براہِ راست الزامات کی تصدیق کریں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ووٹنگ رکوانے کی آخری ناکام کوشش میں وائٹ ہاؤس نے سینیٹرز کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ تاخیر کو "ذمہ دارانہ نگرانی” کے طور پر پیش کیا جائے، تاہم اتوار کی دوپہر تک اعلیٰ حکام نے تسلیم کر لیا کہ یہ حکمت عملی ناکام ہو رہی ہے۔ اس کے بعد انتظامیہ نے مخالفت چھوڑ کر بل کی منظوری کو سیاسی نقصان سے بچاؤ کا بہتر راستہ قرار دیا۔