میٹا کا آسٹریلیا میں 4 دسمبر سے 16 سال سے کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس بند کرنے کا اعلان
ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ 4 دسمبر سے آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر صارفین کو فیس بک، انسٹاگرام اور تھریڈز پلیٹ فارمز سے ہٹا دے گی۔ یہ فیصلہ آسٹریلوی حکومت کی جانب سے نافذ کیے جانے والے نئے قوانین کے تحت کیا جا رہا ہے جن کے مطابق 10 دسمبر کے بعد 16 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی اور خلاف ورزی کی صورت میں بھاری جرمانے بھی عائد کیے جائیں گے۔
حکومت نے فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ تک ملک میں موجود تمام کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس بند کر دیں۔ ان قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنیوں کو 49.5 ملین آسٹریلین ڈالر تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔
میٹا کے مطابق 13 سے 15 سال کے صارفین کو نوٹیفکیشن بھیجنا شروع کر دیا گیا ہے جس میں انہیں آگاہ کیا گیا ہے کہ ان کے اکاؤنٹس جلد بند کر دیے جائیں گے۔ کمپنی نے بتایا کہ 4 دسمبر سے نئے کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس بننا روک دیے جائیں گے جبکہ 10 دسمبر تک تمام معلوم کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس معطل کر دیے جائیں گے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق آسٹریلیا میں اس وقت تقریباً 3.5 لاکھ انسٹاگرام اور 1.5 لاکھ فیس بک صارفین کی عمر 13 سے 15 سال کے درمیان ہے۔ میٹا نے واضح کیا ہے کہ 16 سال کی عمر مکمل ہونے کے بعد صارفین اپنے اکاؤنٹس اسی حالت میں دوبارہ حاصل کر سکیں گے۔
آسٹریلیا کا یہ سخت قانون عالمی سطح پر بھی اہمیت اختیار کر رہا ہے، کیونکہ مختلف ممالک کے ریگولیٹرز سوشل میڈیا کے نقصان دہ اثرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ نیوزی لینڈ بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے قانون سازی کی تیاری کر رہا ہے جبکہ ہالینڈ کی حکومت نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ 15 سال سے کم عمر بچے ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ جیسی ایپس کا استعمال نہ کریں۔