مشرقی پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کے منصوبے بے نقاب، مکتی باہنی کا ’’آپریشن جیک پاٹ‘‘ نئی تاریخی شواہد کے ساتھ منظرعام پرآ گیا

0

نئی دہلی میں جاری تازہ تاریخی تحقیقات نے ایک بار پھر اس امر کی تصدیق کر دی ہے کہ 1971 کی جنگ سے قبل بھارت نے مشرقی پاکستان میں دہشتگردی کی منظم کارروائیاں پلان کیں، جنہیں مکتی باہنی کے نام سے سرگرم مسلح گروہ کے ذریعے عملی شکل دی گئی۔ ’’آپریشن جیک پاٹ‘‘ کے نام سے سامنے آنے والے ان منصوبوں نے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

ذرائع کے مطابق فروری 1971 سے بھارت نے مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کی مدد سے باضابطہ دہشتگردانہ کارروائیاں شروع کر دیں، جبکہ 15 اگست 1971 کو اس کارروائی کو ایک منظم منصوبے کی صورت میں ’’آپریشن جیک پاٹ‘‘ کے طور پر لانچ کیا گیا۔ اس منصوبے کا مقصد مشرقی پاکستان میں بدامنی، خوف اور انتشار پیدا کرنا تھا۔

تاریخی شواہد کے مطابق اس وقت کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کو براہِ راست ہدایت کی کہ مکتی باہنی کے جنگجوؤں کو مکمل اسلحہ، تربیت اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جائیں۔ اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں تربیت یافتہ عسکریت پسند سرحد پار مشرقی پاکستان داخل کیے گئے جنہوں نے محب وطن شہریوں اور حکومتی تنصیبات پر حملے کیے، ان کارروائیوں میں درجنوں افراد شہید جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مکتی باہنی اور بھارت کی یہ مشترکہ کارروائیاں 1971 کی جنگ کے پس منظر میں ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ تھیں جن کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا اور مشرقی پاکستان میں انتشار کو بڑھانا تھا۔ ’’آپریشن جیک پاٹ‘‘ کو اس وقت بھارتی میڈیا نے ایک عسکری کامیابی کے طور پر پیش کیا، جب کہ حقیقت میں یہ پاکستان کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت اور ریاستی دہشتگردی کی واضح مثال تھی۔

ماہرین کے مطابق دستیاب نئے شواہد اس حقیقت کو مزید مضبوط کرتے ہیں کہ بھارت کی یہ عسکری و خفیہ کارروائیاں خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی دیرینہ پالیسی کا حصہ رہیں، جن کے اثرات آج بھی جنوبی ایشیا کی سیاست اور سکیورٹی ماحول پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.