بی جے پی بھارت کو واضح ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے: امریکی کمیشن نے رپورٹ جاری کردی
واشنگٹن: امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک بڑھتا جا رہا ہے اور حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ملک کو واضح طور پر ایک ہندو ریاست کی شکل دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت کا سیاسی اور قانونی نظام مذہبی اقلیتوں کے حقوق پر قدغن لگا رہا ہے، جبکہ قومی اور ریاستی سطح پر ایسے قوانین رائج کیے جا رہے ہیں جو مذہبی آزادی کو محدود کرتے ہیں۔ کمیشن نے نشاندہی کی کہ بی جے پی اور شدت پسند تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے مضبوط تعلقات امتیازی پالیسیوں کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔
امریکی کمیشن نے کہا کہ 2014 میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت میں فرقہ وارانہ پالیسیوں کے نفاذ میں تیزی آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق آر ایس ایس کا بنیادی نظریہ بھارت کو ایک ہندو ریاست بنانا ہے، جبکہ بی جے پی انہی پالیسیوں کو عملی شکل دے رہی ہے۔
کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ آر ایس ایس بی جے پی کے لیے رضاکار فراہم کرتی ہے، اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی ماضی میں اسی تنظیم سے وابستہ رہے ہیں۔