بھارت کے ساتھ جنگ کا خطرہ برقرار، پاکستان دہشت گردی پر جلد قابو پا لے گا: خواجہ آصف
لاہور: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے اور جنگ کا خطرہ مکمل طور پر ٹلا نہیں۔ ان کے مطابق مئی میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد فوری طور پر ایک اور محاذ کھلنے کا امکان تھا، تاہم حالات کو قابو میں لانے کے لیے عالمی مداخلت نے اہم کردار ادا کیا۔
وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ بھارت افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور پراکسی وار کے ذریعے بدلہ لینے کے عزائم رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری پاکستان کے مؤقف کی تائید کر رہی ہے جبکہ بھارت کے خلاف پاکستان کی کامیابی کی تصدیق امریکا بھی کر رہا ہے۔
خواجہ آصف نے بتایا کہ پراکسی جنگ کئی دہائیوں سے جاری ہے اور جدید جنگی حکمت عملیوں میں اس کی اہمیت برقرار ہے۔ ان کے مطابق کابل کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے جس کے شواہد اسلام آباد نے افغان حکام کو فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تین مرتبہ مذاکرات ہو چکے ہیں لیکن افغان حکام کے مؤقف میں تضادات موجود ہیں، جبکہ وانا حملے میں افغان دہشت گردوں کے ملوث ہونے کے ثبوت سامنے آ چکے ہیں۔
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی کا بھرپور جواب دے گا اور سیکیورٹی صورتحال پر جلد قابو پا لیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغان طالبان کے اندرونی اختلافات خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔
خیال رہے کہ مئی میں ہونے والے معرکے میں پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کے متعدد طیاروں کو مار گرایا تھا اور دفاعی صلاحیتوں کی برتری کا مظاہرہ کیا تھا۔